پاکستان نے 43 ماہ میں 47.5 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا
اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے 'نیا پاکستان سرٹیفکیٹس' کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا غیر ملکی قرض شامل نہیں

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے اور زیادہ درآمدات اور پچھلے قرضوں کی مالی اعانت کے لیے ضروری زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان حکومت کو غیر ملکی قرضے لینا مجبوری ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بدتین معاشی بحران سے گزر رہی ہے پی ٹی آئی حکومت نے پہلے سات ماہ کے دوران 12 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لیا جو گذشتہ سال لئے گئے قرضوں کے مقابلے میں 81 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ حکومت نے مکمل مالی سال کے لیے مقررہ غیر ملکی امداد کے ہدف کے تقریباً 86 فیصد کو عبور کرلیا ہے۔
وزارت اقتصادی امور (ایم ای اے) کی ماہانہ رپورٹ مطابق حکومت نے پہلے 7 ماہ میں 12.022 ارب ڈالر کا قرضہ لیاجبکہ مالی سال 22-2021 کے وفاقی بجٹ میں غیر ملکی قرضوں کے لیے سالانہ بجٹ کا ہدف 14.088 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا ، حکومت نے مالی سال 2021 میں کُل 14 ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ اس کے ساتھ موجودہ حکومت کے 43 ماہ کے دوران بیرونی ذرائع (پاکستانیوں کے علاوہ) سے مجموعی غیر ملکی قرضہ 47 ارب 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
معاشی بہتری کیلیے 5 ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ
مالی سال 2022 کیلیے 10 بلین ڈالر سے زائد کا قرضہ لیا جائے گا
واضح رہے کہ ایم ای اے کی رپورٹ میں بیرون ممالک سے لئے جانے والے اس بھاری قرضے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ‘نیا پاکستان سرٹیفکیٹس’ کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا غیر ملکی قرض شامل نہیں ہے اور نا ہی اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی معلومات موجود ہیں جبکہ اس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کردہ تقریباً ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم بھی شامل نہیں ہے جو رواں ماہ کے اوائل میں جاری کی گئی تھی ۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی قرضوں کا حجم گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں غیر معمولی طورپر مسلسل بڑھ رہا ہے جو مالی سال 2019 میں 10 ارب 59 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2020 میں 10 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچا اور پھر مالی سال 2021 میں 14 ارب 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے 7 مہینوں میں 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
مختلف غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کے لیے تقریباً ایک ارب 68 کروڑ ڈالر اور تقریباً 83 کروڑ 20 لاکھ ڈالر عوامی طور پر ضمانت شدہ قرضوں کے لیے حاصل کیے گئے۔ کثیرالجہتی قرضوں میں سب سے زیادہ تقسیم ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب 9 کروڑ ڈالر، اس کے بعد اسلامی ترقیاتی بینک سے ایک ارب 86 کروڑ ڈالر اور ورلڈ بینک سے 84 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی گئی۔ دو طرفہ قرضوں میں سب سے زیادہ 10 کروڑ ڈالر چین سے آئے اور اس کے بعد امریکا سے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ملے۔ دوطرفہ قرض دہندگان کے کُل قرضے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں 19 کروڑ 60 لاکھ رہے۔









