تحریک عدم اعتماد: حزب اختلاف ملک میں سیاسی خزاں کے خاتمے کیلیے تیار ، بہار کا پتا نہیں

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا ہے تحریک عدم اعتماد لانے کا حتمی فیصلہ وہ ، سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کریں گے۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ملک میں سیاسی خزاں کے خاتمے کے لیے کمر کس لی  بہار کا پتا نہیں۔  پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے پاکستانی سیاست میں اہم ہیں۔ تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ میں ، سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمان نے اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے کیا ۔ انہوں نے دعویٰ کے کہ 342 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں انہیں 180 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر خارجہ کی زیرقیادت پی ٹی آئی کا سندھ حقوق مارچ رواں دواں

میڈیا ہاؤسز کی بے جا تنقید کی شکار تحریک انصاف ہی نہیں پیپلز پارٹی بھی ہے

صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا فوکس ہے  کہ بہار آئے یا نہ آئے، خزاں جائے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پہلے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف لانی ہے یا وزیراعظم عمران خان کے خلاف۔ انہوں نے بتایا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے اندر اور قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ اپوزیشن کو 172 ایم این ایز کی حمایت درکار ہوگی، تاہم اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔

ملکی سیاست میں اگلے 48 گھنٹے اہم

پی ڈی ایم اور جے یو آئی (ف) کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں آئندہ 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد پیش کرسکتی ہیں۔

اندرونی ذرائع کی تصدیق

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کو ناکام ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی اور وہ تحریک عدم اعتماد اسی صورت میں پیش کریں جب انہیں تحریک کی 100 فیصد کامیابی کا یقین کا ہوگا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ ناراض اراکین اپوزیشن کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن یہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے مطلوبہ تعداد کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اتحادی

وزیراعظم عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی کی حکومت کے اتحادیوں میں مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) شامل ہیں۔

واضح رہے کہ منگل کے روز وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران سے ملاقات کی تھی جس میں چوہدری برادران نے کھل کر وزیراعظم کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

یاد رہےکہ گذشتہ ماہ حکومت نے سینیٹ میں حزب اختلاف کی اکثریت کے باوجود آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2022 آسانی سے منظور کرالیا تھا۔

ایوان بالا میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود اوگرا ترمیمی بل پر ووٹنگ ہوئی تو حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی جانب سے 29 ، 29 ووٹ ڈالے گئے ، بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے اپنا ووٹ حکومت کے حق میں ڈالتے ہوئے ترمیم کو منظور کرالیا۔

اس سے قبل چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو صادق سنجرانی کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کو تحقیقی نظر سے دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وزیراعظم یا اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو ناکامی سے دوچار ہو گی ، کیونکہ ایوان بالا میں اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن کو شکست کی  حزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ اب تو چوہدری برادران نے بھی وزیراعظم کو بھرپور حمایت کا یقین دلا دیا ہے جبکہ جہانگیر ترین لندن میں جاکر بیٹھ گئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر