پشاور کی جامع مسجد میں خودکش دھماکہ، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
جمعہ کے روز جامع مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 57 افراد جاں بحق اور 194 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے دارالحکومت پشاور کے قصہ خوانی بازار کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس (خراسان) داعش نے قبول کرلی ہے۔
جمعہ کے روز شیعہ جامع مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 57 افراد جاں بحق اور 194 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
دھماکے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
فیس بک کی محبت، انڈین لڑکی نے پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی
پشاور، نماز جمعہ کے دوران مسجد میں خودکش دھماکہ، 57 افراد جاں بحق
اسلامی اسٹیٹ خراسان کے مقامی ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے پشاور کی مسجد میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک افغان شہری تھا۔
اسلامک اسٹیٹ یا داعش کا دہشتگرد گروپ پاکستان میں پہلے بھی کئی مہلک حملے کرچکا ہے، اور ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرچکا ہے، تاہم پشاور کے قصہ خوابی بازار کی مسجد ہونے والا دھماکہ بہت زیادہ مہلک ہے جس میں 57 سے زیادہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اسلحے سے لیس خودکش حملہ آور اور اس کا ساتھی ایک رکشے کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچے تھے ، حملہ آووروں نے کالے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔
سی سی ٹی فوٹیج کے مطابق حملہ آور نے مسجد کے گیٹ پر پہنچ کر پہلے فائرنگ کی اور بعدازاں مسجد کے ممبر کے پاس پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ عین اس وقت ہو اجب جمعہ کی نماز کےلیے صف بندی کی جارہی تھی۔
پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے جن میں چھرے ، بارودی مواد اور گولیوں کے خول شامل ہیں۔
اعجاز خان کا کہنا تھا کہ "ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ہم اس کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔”









