تین روزہ فیض فیسٹیول اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا
تین روزہ فیض فیسٹیول میں "چلو پھر سے مسکرائیں" شہر ادب لاہور میں ایک جامع نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صوبائی دارالحکومت لاہور کی اہم شاہراہ مال روڈ پر واقعہ الحمراء آرٹ کونسل میں تین روزہ فیض فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جو اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
پاکستان کے عظیم ادبی وثقافتی مرکز لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں چھٹا سہ فیض فیسٹیول بعنوان "چلو پھر سے مسکرائیں” اپنی بھرپور آب و تاب سے گزشتہ دو روز سے جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد کی شاہراہوں پر چلتا پھرتا گولڈن مین کراچی کی پہچان
لوگوں کی باتوں کی فکر نہ کریں محنت سے کامیابی ملتی ہے، مسٹر پاکستان
فیض فیسٹیول "چلو پھر سے مسکرائیں” کے پہلے روز اجوکا تھیٹر کی جانب سے "کون ہے گستاخ” ڈرامہ پیش کیا گیا جبکہ دوسرے روز”شہر ادب لاہور“ پر ایک جامع نشست کا انعقاد بھی کیا گیا۔ جس میں کمشنر لاہور کیپٹن عثمان، وی سی جی سی ڈاکٹر اصغر زیدی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء آرٹ کونسل ذوالفقار علی زلفی کا اظہار خیال کیا۔ وی سی کے سی پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ نے بھی گفتگو کی، آمنہ علی نشست ماڈریٹ کی۔
کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان نے اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ شہر ادب لاہور کے بینر تلے ہم بڑھ چڑھ کر زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق پر فخر ہے، خدمت کے جذبے سے سرشار اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ لاہور کے لوگ کھلے دل کے مالک ہیں، ہر باہر سے آنے والا لاہوریاں بن گیا، لاہور کی آب و ہوا میں ہر شے کھل جاتی ہے، لاہور میں خزاں نہیں آتی۔ الحمراء بھی لاہور کی طرح ایک منفرد برینڈ ہے، اس کی نشو ونما میں بڑے نام ہیں۔ لاہور پاکستان کی ثقافت کا گڑھ ہے، الحمراء لاہور کی ثقافت کا گڑھ ہے۔
وی سی جی سی ڈاکٹر اصغر زیدی شہر ادب لاہور کے اعزاز کی بدولت دُنیا میں لاہور کے قدر بڑھی ہے۔
ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ نے کہا کہ شہر ادب لاہور کا اعزاز ہماری خدمات کا اعتراف ہے جو جاری رہیں گی۔ ہفتے کا روز فیسیٹول کا آخری روز تھا جس میں 25 سے زائد نشستیں منعقد کی گئیں۔
فیض احمد فیض کی صاحبزادی چیئرپرسن منیزہ ہاشمی نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ دو سال سے کورونا کی وجہ سے فیسیٹول منعقد نہیں ہوسکا۔ آج یہاں رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے لوگ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان اور بیرون ملک سے بھی لوگ آرہے ہیں۔
فیض فیسٹیول میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے خصوصی شرکت کی اور اپنے اظہار خیال میں کہا کہ فیض فیسٹیول بہار کے موسم کو دوبالا کر دیتا ہے۔ فیض کے فیض سے یہاں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ایسی تقریبات وقت کی ضرورت ہے اور مزید بھی ایسی تقریبات اور پروگرام ہونے چاہئیں لوگوں کو آپس میں ملنے اور گپ شپ کے ساتھ ساتھ ادب و ثقافت کت متعلق جانے کا موقع ملاتا ہے۔









