تحریک عدم اعتماد، وزیراعظم اور حزب اختلاف کو درپیش چیلنجز
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور آصف علی زرداری کو اپنے اپنے دعوے کے مطابق 172 ارکان کو سنبھال کر رکھنا ہے کیونکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔
قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 اراکین اسمبلی کی حمایت لازمی درکار ہے۔
سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کے 86 ارکان کے دستخط پر موجود ہیں جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے بھی ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے۔
تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن ایڈیشنل سیکریٹری محمد مشتاق نے وصول کی۔
تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق ، سابق اسپیکر قومی اسملبی ایاز صادق ، پی پی کی رہنما شازیہ مری ، نوید قمر ، ن لیگ کے رانا ثناء اللہ ، عالیہ کامران اور شاہدہ اختر علی شامل تھیں۔
تحریک عدم اعتماد ، قوائد و ضوابط اور اسپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داری
قوائد و ضوابط کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے 3 دن بعد اور 7 دن سے پہلے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہوتے ہیں۔

آئینی طریقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن جمع ہونے کے 14 دن کے اندر اسپیکر قومی اسمبلی بلانے کے پابند ہوتے ہیں۔ یعنی 22 مارچ سے پہلے پہلے اسپیکر اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔
آئین کے آرٹیکل 95 کے مطابق وزیراعظم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کے کم از کم 20 فیصد ارکان اسمبلی کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 95 کی شق ٹو کے تحت جب تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جاتی ہے تو تین دن سے پہلے اس پر ووٹنگ نہیں ہوسکتی اور سات دن سے زیادہ اس پر ووٹنگ میں تاخیر نہیں کی جاسکتی۔
آئین کے آرٹیکل 95 کی شق 4 کے تحت تحریک عدم اعتماد اگر اکثریت رائے سے منظور ہوجاتی ہے تو وزیراعظم اپنے عہدے پر مزید فائز نہیں رہ سکتے۔
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے کی جائے گی، جس طرح قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہوتی ہے۔
ایوان زیریں کے قوانین میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا اس شخص کو عہدے سے ہٹانے کا ایک "جمہوری” طریقہ ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا دعویٰ
حزب ختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انہیں وزیراعظم کے خلاف مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ روز اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 172 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے انہوں نے بھرپور انداز میں اپنا موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی ، ان کے خلاف تحریک بری طرح سے ناکام ہو گی۔
قومی اسمبلی کی تزئین و آرائش کا کام جاری
سوال پیدا ہورہا ہے کہ قومی اسمبلی کی عمارت کے اندر تزئین و آرائش کا کام چل رہا ہے تو اجلاس کیسے بلائے جائے گا۔
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ قومی اسمبلی کی بلڈنگ میسر ہے یا نہیں ہے ۔ اسپیکر اس بات کے مجاز ہیں کہ وہ اسمبلی کا اجلاس کسی جگہ پر بھی بلا لیں ۔ کنونشن سینٹر کے اندر اسمبلی کا اجلاس ہوسکتا ہے ۔ قومی اسملبی کے باغ میں اجلاس بلایا جاسکتا ہے ۔ کسی نجی ہوٹل کے اندر اجلاس ہوسکتا ہے ۔
حکومت اور حزب اختلاف کی اراکین کی تعداد
پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی تعداد
پی ٹی آئی – 155
ایم کیو ایم پی – 7
مسلم لیگ ق – 5
بی اے پی – 5
جی ڈی اے – 3
آزاد – 2
عوامی مسلم لیگ ۔۔ 1
جمہوری وطن پارٹی ۔۔ 1
حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد
مسلم لیگ ن – 84
پی پی پی – 56
ایم ایم اے – 15
بی این پی ایم – 4
آزاد – 2
اے این پی – 1
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں دعوے کررہی ہیں کہ انہیں قومی اسمبلی میں مطلوبہ اراکین اسملبی کی حمایت حاصل ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی قانون کے مطابق 14 دن کے اندر ووٹنگ کرانے کے پابند ہیں ۔ نکتہ صرف یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنے ووٹوں کی حفاظت کرنی ہے اور جیسا کہ زرداری صاحب نے فرمایا ہے کہ انہیں 172 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے انہیں اپنے ان ووٹوں کو سنبھال کررکھنا ہے ۔ کیونکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔









