دفاتر میں کام کرنیوالی خواتین کو مناسب ٹوائلٹس میسر نہیں، ایس پی آمنہ بیگ

خاتون پولیس افسر نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ڈاکٹر بھائی کے مطابق واش رومز نا ہونے کی وجہ سے دفاتر جانیوالی خواتین کم پانی پیتی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی ایس پی آپریشنز آمنہ بیگ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی ایک ڈاکٹر ہے اس نے مجھے بتایا کہ دفتر میں کام کرنے والی خواتین دن میں کم پانی پیتی ہیں کیونکہ انہیں واش رومز دستیاب نہیں۔

آمنہ بیگ نے کہا کہ ان کے ڈاکٹر بھائی کا کہنا تھا کہ کم پانی پینے کی وجہ سے ان خواتین کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

یہ ٹویٹ ایس پی آمنہ بیگ نے گزشتہ روز کی جب دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں (خواتین کو) ہر جگہ ہر چیز میں دوگنا کام کرنا پڑتا ہے۔

آمنہ بیگ کی ٹویٹ پر صحافی یسریٰ عسکری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میری آرکیٹیکٹ بہن کو اسی وجہ سے گردے میں انفیکشن ہوا اور وہ آئی سی یو پہنچ گئی تھی۔

یہ بات بالکل سچ ہے کہ پاکستان میں دفتر، فیکٹری، دکان، بازار کہیں بھی خواتین کے لیے مناسب واش رومز نہیں ہیں۔

خواتین کے لیے کیا، واش رومز تو مَردوں کے لیے بھی کہیں نہیں ہیں لیکن حضرات پھر بھی دیوار اور پیڑ کا سایہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔

دوسری طرف خواتین ہیں، وہ اس مسئلے سے کیسے نبرد آزما ہوں؟

اٹھارہویں ترمیم کے بعد شعبہ صحت اور بلدیات صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔

تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے صوبوں میں خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پبلک ٹوائلٹس کا انتظام کریں۔

کیا معلوم کہ اگلا الیکشن میں پبلک ٹوائلٹ بنانے کے وعدے کرنے والی سیاسی پارٹی کا ووٹ بینک بڑھ جائے۔

متعلقہ تحاریر