لیگی رہنما محمد زبیر اپنی قیادت کے بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے
مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے جہانگیر ترین کو چینی چور کہا، سابق گورنر سندھ کہتے ہیں میں نے یہ الفاظ کبھی نہیں استعمال کیے۔

گزشتہ روز اے آر وائی نیوز پر اینکرپرسن کاشف عباسی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی دلچسپ نوک جھوک ہوئی تھی۔
یہ ہے آپکے ملک کی نظریاتی سیاست
pic.twitter.com/weIlVzbkNa— Adeel Warraich (@AdeelJavedCh) March 9, 2022
سابق گورنر سندھ محمد زبیر کہہ رہے ہیں کہ جب یہ چینی کا بحران آیا تو میں نے جہانگیر ترین کو کبھی چینی چور نہیں کہا۔
کاشف عباسی نے پوچھا کہ پھر کس کو کہا؟ مولانا کو؟ پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے لقمہ دیا کہ یہ ہے پاکستانی سیاست۔
پروگرام میں یہ بات چل نکلی تھی کہ کچھ عرصے پہلے تک پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کو چینی چور کے القابات سے نوازا جاتا تھا۔
آج جب انہوں نے مبینہ طور پر پی ٹی آئی میں ایک فارورڈ بلاک تشکیل دے دیا ہے تو اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف ایک لفظ نہیں بول رہیں۔
اس کے جواب میں لیگی رہنما محمد زبیر صفائیاں پیش کر رہے تھے کہ ہم نے جہانگیر ترین کو چینی چور کبھی نہیں کہا۔
محمد زبیر کچھ وقت پہلے تک مریم نواز اور نواز شریف کے ترجمان تھے اور میڈیا پر خوب پریس کانفرنسز کیا کرتے تھے۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے جہانگیر ترین کو کبھی چینی چور نہیں کہا تو جن سیاسی شخصیات کی وہ ترجمانی کر رہے تھے انہوں نے ترین صاحب کے لیے یہی الفاظ استعمال کیے۔
کل سابق گورنر زبیر کی گفتگو سن کر یہ لگ رہا ہے کہ سیاسی فضا کا رخ تبدیل ہوا تو انہوں نے اپنے رہنماؤں کے بیانیے سے ہی روگردانی کر ڈالی۔
اعتراض اس بات پر نہیں کہ انہوں نے جہانگیر ترین کو چینی چور کہا یا نہیں کہا لیکن اس بات پر ہے کہ یہ ان کی پارٹی اور مرکزی قیادت کا موقف رہا ہے۔









