تحریک عدم اعتماد، معروف صحافی حامد میر تاریخ سے نابلد نکلے
جیو نیوز کے اینکر پرسن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم آئی آئی چندریگر کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔
کل تک یوٹیوبر پر تنقید کرنے والے پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی حامد میر ، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری کی تصحیح کراتے کراتے خود تاریخ کی غلط تشریح کر بیٹھے ہیں۔
دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری نے گذشتہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "پاکستانی ایک پھر کسی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک کے گواہ بننے جارہے ہیں جس کی مدت ختم ہونے میں ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
دفاتر میں کام کرنیوالی خواتین کو مناسب ٹوائلٹس میسر نہیں، ایس پی آمنہ بیگ
گستاخانہ مواد کی تشہیر روکنے کے لیے او آئی سی کردار ادا کرے
معروف صحافی عامر غوری نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ شیئر کی گئی ایک تصویر مرحوم سابق وزیراعظم ابراہیم اسماعیل (آئی آئی) چندریگر کی ہے جس کے نیچے لکھا ہے کہ وہ مستعفی ہوئے تھے۔
Dear Aamir, please make a correction. Prime Minister Chundrigar was removed through a vote of no confidence on December 11th 1957. Malik Feroz Khan Noon replaced him and he was removed by the first martial law within months. https://t.co/xR2zPpuice
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) March 9, 2022
عامر غوری کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے معروف صحافی اور جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر نے لکھا ہے کہ ” محترم عامر صاحب، اپنی اصلاح فرما لیں۔ وزیر اعظم چندریگر کو 11 دسمبر 1957 کو تحریک عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ملک فیروز خان نون نے لی تھی ، اور انہیں کچھ مہینوں کے بعد مارشل لاء لگا کر فارغ کردیا گیا تھا۔
دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری نے لکھا ہے کہ پاکستان میں آج تک کوئی بھی وزیراعظم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ریموو نہیں ہوا۔ جبکہ حامد میر نے اپنی علمی دھاگ بٹھانے کے لیے عامر غوری کی تصحیح کی کوشش کرنے کی کوشش کی اور انہیں وکیپیڈیا کی پڑھی ہوئی اسٹوری سنا دی۔

اسماعیل ابراہیم (آئی آئی) چندریگر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ضرور پیش ہوئی تھی لیکن وہ فیل ہو گئی تھی یہ تاریخی حقیقت ہے۔ تاہم وہ دباؤ کی وجہ سے خود مستعفی ہو کر چلے گئے تھے۔ اور ان کی جگہ فیروز خان نون کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔
اس حقیقت کا ادراک مزید اس وقت ہو جائے گا جب تاریخ کا طالب علم خورشید کمال عزیز (کے کے عزیز) کی کتاب ” The Murder of History” کو پڑھے گا۔
وزیراعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی وزیراعظم کے خلاف ایسا اقدام کامیاب ہوا ہے؟
سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز اور بے نظیر بھٹو ماضی میں بھی ایسی ہی کوششوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
کل سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایک شور مچا ہوا ہے کہ آئی آئی چندریگر کو 11 دسمبر 1957 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں آج تک کسی بھی وزیر اعظم کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔
ڈان اخبار کی دسمبر 1957 کی اشاعت کی تفصیلات کے مطابق آئی آئی چندریگر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تاہم بعدازاں وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر چلے گئے تھے۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما اسماعیل ابراہیم چندریگر کو اس وقت کے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا نے 18 اکتوبر 1957 کو حسین شہید سہروردی کے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد نئی کابینہ تشکیل دینے کو کہا۔
تاہم دو ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی آئی چندریگر نے 11 دسمبر اور 12 دسمبر کی درمیانی شب کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا جسے 16 دسمبر کو منظور کرلیا تھا۔









