بلاول بھٹو زرداری سیاسی تاریخ سے نابلد یا جوش خطابت کا اثر
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ڈر جائیں گے تو وہ سن لے کہ ہمارے اندر شہیدوں کا لہو ہے، پیپلزپارٹی ہر دور میں ظالموں سے نبرد آزما ہوئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جذبات جوش خطابت میں گڑبڑا گئے اور مولانا مودی کا تعارف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کے طور پر کرا دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہم نے اپنے جمہوری حق کے لیے عوامی مارچ کیا ، اس دوران ہمارے خاندان اور جماعت پر سیاسی حملے کیے گئے اور غلط زبان استعمال کی گئی مگر ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
عثمان بزدار کے متحرک ہوتے ہی ترین اور علیم گروپ میں پھوٹ پڑگئی
لیگی رہنما محمد زبیر اپنی قیادت کے بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے
آصفہ بھٹو کو ڈرون ٹکرانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ آصفہ بھٹو سے ڈرون ٹکرانا ہمارے لیے پیغام تھا ، مگر ہم ڈرنے والے نہیں۔
چیئرمین کا کہنا تھا آصف زرداری کو دھمکی اور آصفہ بھٹو پر ڈرون کا حملہ ناقابل برداشت ہے۔ ہم حکومت نہیں آئی ایس آئی سے مطالبہ کرتے ہیں اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سب کے سامنے سابق صدر آصف زرداری کو بندوق کی دھمکی دی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ڈر جائیں گے تو وہ سن لے کہ ہمارے اندر شہیدوں کا لہو ہے، پیپلزپارٹی ہر دور میں ظالموں سے نبرد آزما ہوئی ہے۔
ہم نے کبھی بندوق استعمال نہیں کی لیکن استعمال کرنا جانتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں پرامن انسان ہوں، پر امن ہی رہوں گا۔
"آپ کو معلوم ہے کہ مولانا مودودی کون ہے؟” pic.twitter.com/Mf4Hr9Jgsd
— Sheraz Khan Rajput 🦉 (@SherazKRajput) March 10, 2022
اس موقع پر جوش خطابت یا تاریخ سے نابلد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا صاحب کا اور ہمارا تعلق آج سے نہیں ۔ ہم قائد عوام کے وقت سے سیاسی اختلافات رکھتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ مولانا مودی کون ہے ۔ آپ کو احساس ہے جمعیت علمائے اسلام کا تاریخ کیا ہے۔
اس پر کسی نے تصحیح کی تو بلاول بھٹو زرداری نے کہا مفتی محمود صاحب سوری مجھ سے غلطی ہوئی ۔ مجھ سے بھی سلپ آف ٹنگ ہو سکتا ہے۔









