چیلسی کے روسی مالک پر برطانوی حکومت کی پابندیاں

رومن ابرامووچ روس کی امیر ترین شخصیات میں سے ہیں، چیلسی فٹبال کلب ان کی ملکیت ہے، پابندیوں کے بعد کلب کو فروخت نہیں کرسکتے۔

رومن ابرامووچ کی چیلسی فٹبال کلب کو فروخت کرنے کی خواہش فی الوقت پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ برطانوی حکومت نے اس روسی رئیس پر پابندی عائد کردی ہے۔

یوکرین پر روسی قبضے کےردعمل کے طور پر ابرامووچ کے برطانوی اثاثوں کو منجمد کردیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے شائع کردہ دستاویز کے مطابق چیلسی کے مالک کی شناخت کریملن کے حامی کے طور پر کی گئی۔

دستاویز میں کہا گیا کہ اس شخص کے ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ دہائیوں سے گہرے تعلقات ہیں اور پیوٹن یوکرین کو غیرمستحکم کرنے اور اس کی علاقائی سلامتی کیلیے خطرات پیدا کرنے، یوکرین کی خودمختاری اور آزادی پر حملہ کرنے میں ملوث ہیں۔

برطانوی حکومت نے کہا کہ ان تعلقات کی وجہ سے ابرامووچ نے پیوٹن اور روس کی حکومت سے مالی اور مادی فوائد حاصل کیے۔

ان فوائد میں ٹیکس چھوٹ، پسندیدہ قیمتوں پر حصص کی فروخت اور خریداری شامل ہے۔

دوسری طرف ابرامووچ نے ان الزامات کی تواتر کے ساتھ تردید کی ہے کہ وہ روس یا پیوٹن کے ساتھ منسلک ہیں یا انہوں نے کوئی بھی ایسا کام ہے کہ ان پر پابندیاں لگائی جائیں۔

ان پابندیوں کے بعد ابرامووچ چیلسی کلب نہ تو فروخت کرسکتے ہیں اور نا ہی اس میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔

55 سالہ روسی رئیس نے کلب کو گزشتہ ہفتے فروخت کیلیے پیش کیا تھا اور پرامید تھے کہ جلد ہی ڈیل طے پا جائے گی کیونکہ متعدد پارٹیوں کی جانب سے کلب خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی گئی تھی۔

چیلسی کو ابرامووچ نے 2003 میں خریدا تھا اور اب اسے غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

یورپین چیمپین کلب کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلیے خصوصی لائسنس دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ان پر بہت سی سختیاں ہیں۔

چیلسی اپنے ٹکٹ نہیں فروخت کرسکتا اور نا ہی پلیئرز کو خرید سکتا ہے اور نا نئے معاہدے کر سکتا ہے۔

جن شائقین کے پاس پہلے سے موجودہ سیزن کے فٹبال میچز کیلیے ٹکٹس موجود ہیں صرف انہیں کھیل دیکھنے کی اجازت ہوگی اور کھانے پینے کی سروسز فراہم کرنے والوں کو اجازت ہوگی۔

متعلقہ تحاریر