شیریں مزاری نے الیکشن کمیشن کو دائرہ اختیار کا سبق پڑھا دیا

صدر مملکت نے خصوصی آرڈیننس جاری کیا، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ وہ آرڈیننس کو کالعدم قرار دے سکے، اٹارنی جنرل۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جا کر فیصلہ دیا ہے جس سے جانبداری کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی خصوصی آرڈیننس کے خلاف حکم نامہ جاری نہیں کر سکتا۔

شیریں مزاری نے اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری کیا گیا بیان بھی شیئر کیا جس کے مطابق الیکشن کمیشن صدر مملکت کی طرف سے نافذ کردہ آرڈیننس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آرڈیننس کے تحت کیے جانے والے اقدامات کو روک سکے۔

یہ صرف ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ صدارتی آرڈیننس کے خلاف کارروائی کرسکے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف ریگولیشن پر فیصلہ دے سکتا ہے لیکن نا تو آرڈیننس کو کالعدم قرار دے سکتا ہے نا ہی کسی ایسی سرگرمی کو روک سکتا ہے جس کی اجازت آرڈیننس میں دی گئی ہو۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے تقاریر اور انتخابی مہم کرسکتے ہیں لیکن سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد بشمول وزیراعظم عمران خان وہاں تقریر نہیں کرسکتے۔

اس حکم نامے پر شیریں مزاری اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے الیکشن کمیشن کو یاد دلایا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پہلے ہی اس ضمن میں خصوصی آرڈیننس جاری کرچکے تھے۔

وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور پارٹی وزیراعظم کے عوامی جلسوں پر اٹھنے والے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس رقم کا تخمینہ لگایا جائے گا اور اسے سرکاری خزانے میں جمع کروا دیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر