فوڈ پانڈا رائیڈرز کی ہڑتال، کمپنی کی کسٹمرز سے آرڈرز خود پِک کرنے کی درخواست
ہانگ کانگ فوڈ پانڈا کمپنی کے رائیڈرز نے کمیشن دینے کے سخت قوانین کے خلاف 11 ، 12 اور 13 مارچ کے لیے ہڑتال کررکھی ہے ۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی فوڈ پانڈا کے رائیڈرز نے ملک بھر میں تین دن کی ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے۔ فوڈ پانڈا رائیڈرز کی ہڑتال جمعہ ، ہفتے اور اتوار تک جاری رہے گی۔ رائیڈرز کی ہڑتال کے سبب فوڈ پانڈا کمپنی نے اپنی کسٹمرز سے اپنے آرڈرز خود اٹھانے کی درخواست کی ہے۔
فوڈ پانڈا رائیڈرز کی ہڑتال کے سبب فوڈ پانڈا کمپنی نے اپنے صارفین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے ہم ڈیلیوری کی سروس آپ کو باہم فراہم نہیں کرسکتے ، اس لیے اپنے بک کرایا گیا آرڈر آپ اپنے پر مطلوبہ ریسٹورنٹ یا ہوٹل سے پِک کرلیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں پہلی یورپین کار پیوجوٹ 2008 متعارف کرادی
محکمہ ریلوے نے ٹرینوں کی صفائی کے لیے عملہ تعینات کردیا
ہانگ کانگ فوڈ پانڈا کمپنی کے رائیڈرز نے کمیشن دینے کے سخت قوانین کے خلاف 11 ، 12 اور 13 مارچ کے لیے ہڑتال کررکھی ہے ۔
کمپنی کے سخت قوانین کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے رائیڈرز نے بتایا ہے کہ "رائیڈر کے دو آرڈر کینسل کرنے پر اس آف لوڈ کردیا جاتا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔”

پہلے آرڈر پر 65 روپے کا کمیشن دیا جاتا ہے جبکہ دوسرا آرڈر 32 روپے کا دے کر احسان کیا جاتا ہے جبکہ تیسرے آرڈر پر 19 روپے دیے جاتے ہیں، آج کل تو فقیر بھی دس روپے نہیں لیتا اور بین الاقوامی کمپنی 19 روپے کا آرڈر دے کر احسان کررہی ہے۔”
بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی جس نے پاکستان میں گذشتہ دو سے تین سالوں میں خوب نام کمایا ہے ، یہ کاروبار کا اصول ہے جب نام بنتا ہے تو مال بھی خوب بنتا ہے ۔

ملک کے بڑے شہروں کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں فوڈ پانڈا کی سروس انتہائی کامیابی سےجاری ہے ۔ فوڈ پانڈا رائیڈرز کا کام کھانے سے لے کر دوسری روزمرہ کی اشیاء کو گھروں تک پہنچانا ہے ۔ اگر فوڈ پانڈا رائیڈرز کو اگر مزدوری پوری نہ دی جائے تو کمپنی کیسے چلے گی ۔
فوڈ پانڈا کمپنی کی کمائی کے راستے
سب سے پہلے فوڈ پانڈا کمپنی ویب ٹریفکنگ کے ذریعے کمائی کرتی ہے۔
ان کی اپیلی کیشن کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر 5ویں موبائل میں ڈاؤن لوڈ ہے۔
دوسرے نمبر پر کمپنی ریسٹورانٹس سے کماتی ہے۔ کمپنی کسی بھی ریسٹورانٹ کا ہوٹل کو اپنی ویب سائٹ پر لانے کے لیے اس سے پرسنٹیج طے کرتی ہے۔
کمپنی اپنے کسٹمر سے ڈیلیوری چاجز بھی وصول کرتی ہے۔









