وزیراعظم کا حافظ آباد میں کامیاب عوامی جلسہ ، اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی
وزیراعظم کا کہنا ہے جو قومیں اپنے نظریے سے ہٹ جاتی ہیں تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے ، کرپٹ لوگوں نے میرے خلاف ایکا کرلیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک کے بعد ایک کامیاب جلسہ کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ آج بھی عوام میں اتنے ہیں مقبول ہیں جتنے وہ پہلے تھے۔ منڈی بہاؤالدین ، لوئر دیر ، میلسی اور آج حافظ آباد میں عوام کا جم غفیر جمع کر کے انہوں نے اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ جو قومیں اپنا نظریہ بھول جاتی ہیں تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ 25 سال سے کرپشن کے خلاف جہاد کررہا ہوں۔
حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جتنے ترقیاتی کام پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اتنے کام کسی حکومت میں نہیں ہوئے۔ ہمارے کاموں کی تاریخ گواہ ہے۔ 70 سال سے رکے ہوئے کام ایک سال میں کرنا چاہتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
پاک بحریہ کا مشق سی اسپارک 22 کے دوران میزائل کا کامیاب مظاہرہ
سینیٹ آف پاکستان نے چیئرمین اور قائد ایوان کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دے دیا
وزیراعظم کا کہنا تھا نظریے کے بغیر کوئی قوم ، قوم نہیں بن سکتی ہے۔ پاکستان بڑے مقصد کے لیے بنا تھا۔ ہم نے اچھی قوم بننا تھا جو نہیں بن سکے۔ قومیں ہمیشہ نظریے پر عمل کر بنتی ہیں۔ میں پچھلے 25 سال قوم کو تبلیغ کررہا ہوں ۔ چوری کے پیسے سے ضمیر بکیں تو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عظیم قوم بننے کے لیے ہمیں اچھائی کا ساتھ دینا ہوگا۔ نامور کرپٹ مجرم حکومت کو گرانے کے لیے ووٹ خرید رہے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا میں سیاست میں خدمت کے لیے آیا تھا ، میں سیاست میں آلو اور ٹماٹر کی قیمتیں دیکھنے کے لیے نہیں آیا تھا ۔ قوم کھڑی نہیں ہو گی تو کرپشن بڑھتی جائے گی۔ کرپٹ لوگوں کے خلاف آواز بلند کرنا قوم کی ذمہ داری ہے۔ کرپٹ لوگوں کے خلاف آواز بلند کرنا عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
حافظ آباد میں جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا سب کرپٹ لوگ میرے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں ، ریاست مدینہ میں لوگ برائی کے خلاف ہوتے تھے۔ ریاست کو گرانے کے لیے لوگوں کے ضمیر خریدے جارہے ہیں۔ جیسے ماضی میں حکومتوں کو گرانے کے لیے لوگوں کے ضمیر خریدے گئے۔ نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں ۔ ملک میں پہلی بار یکساں نصاب تعلیم لے کر آئے۔ میں سیاست میں پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کے لیے آیا ہوں ۔ ہم نے 26 لاکھ اسکالرشپس دیں، ایرو اسپیس کی دو جدید ترین یونیورسٹیاں بنا رہے ہیں۔ پاکستان اپنا جہاز بنائے گا باہر سے نہیں منگوانا پڑے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لیڈر کسی کے سامنے نہیں جھکتا ، تین چوہے میرا شکار کرنے نکلے ہیں میں ان کا شکار کرکے دکھاؤں گا ۔
بلاول بھٹو کے فقرے کو بنیاد بنا کر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہمارے وزیراعظم کی امریکی صدر کے سامنے کانپیں ٹانگ رہی ہوتی ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے پرچی پکڑی ہوتی ہے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے ۔ ہم ایک آزاد ملک ہیں کسی کے غلام نہیں ہیں۔ یورپی یونین کے سفیروں کا خط سفارتی آداب کے خلاف تھا ، یورپی یونین کے سفیروں پر درست تنقید کی ۔ بلاول بھٹو کہتا ہے عمران خان نے تنقید کرکے ظلم کیا ۔









