امریکی موقف کی ترویج، بائیڈن انتظامیہ کی سوشل میڈیا انفلوئینسرز سے ملاقات

روس یوکرین جنگ کے تناظر میں حکومتی پراپیگنڈے کی ترویج کیلیے 30 سوشل میڈیا اسٹارز کو وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دی گئی۔

بائیڈن انتظامیہ یوکرین اور روس کے تنازع پر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی معروف شخصیات کو بریفنگ دے کر لوگوں میں آگاہی پھیلانے کیلیے کام کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری جین پساکی اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے عہدیداران نے جمعرات کو 30 سوشل میڈیا انفلوئینسرز سے ملاقات کی جو ک اپنے چینلز پر روس یوکرین تنازع کی کوریج کررہے ہیں۔

ملاقات میں ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ٹوئٹر پر کانٹینٹ تخلیق کرنے والوں کو یوکرین کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ تخلیق کاروں کو ویسا ہی مواد فراہم کیا گیا جیسا کہ رپورٹرز کو گزشتہ ہفتے دیا گیا تھا۔

عہدیدار نے کہا کہ ان تخلیق کاروں کی یوکرین کی صورتحال پر معلوماتی ویڈیوز کو کروڑوں افراد نے دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بنیادی طریقہ ہے جس کے ذریعے امریکیوں خاص طور پر نوجوانوں کو جنگ کی تازہ صورتحال بروقت پہنچائی جا رہی ہیں۔

اس کے ذریعے کریملن کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات کا بھی تدارک کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس عہدیدار نے کہا کہ روسی حکومت ٹک ٹاکرز کو حکومتی پراپیگنڈا کرنے کیلیے پیسے دے رہی ہے، تو اس طرح کی بریفنگز کے ذریعے ہمارے تخلیق کار اپنے فالوورز کو درست معلومات دے سکیں گے۔

22 سالہ امریکہ نژاد یوکرینی ایرون پارنس کے ٹک ٹاک پر 12 لاکھ فالوورز ہیں اور وہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنی فیملی اور مقامی صحافیوں سے حاصل کردہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئینسرز کی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلیے یہی خبر کافی ہے کہ وائٹ ہاؤس دو ممالک کے درمیان جنگ کی تازہ صورتحال عوام تک پہنچانے کیلیے سوشل میڈیا انفلوئینسرز کو استعمال کررہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے برسر اقتدار آتے ہی ڈیجیٹل میڈیا اور آئی ٹی پر خصوصی توجہ دی اور مستقل اس بات کا اظہار کیا کہ اگلا دور صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آئی ٹی کا ہوگا۔

چند روز قبل ملک کی سیاسی صورتحال پر اپنا اور حکومت کا موقف پیش کرنے کیلیے وزیراعظم عمران خان نے بھی سوشل میڈیا انفلوئینسرز کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات پر ان کا بہت مذاق بنایا گیا کہ مشکل وقت میں وزیراعظم سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے کے بجائے سوشل میڈیا کانٹینٹ بنانے والوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر