پاک روس گیس پائپ لائن معاہدہ حتمی مراحل میں داخل

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹریو دیتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہمیں ملک کے جنوب سے شمالی علاقوں کو گیس فراہم کرنی ہے، یہ بہترین معاہدہ ہے۔

روس کو معاشی طور پر تنہا کرنے کیلیے عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان نے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ اربوں ڈالر کی اسٹریم پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ تقریباً ہوچکا ہے۔

اس منصوبے کو ‘نارتھ ساؤتھ پراجیکٹ’ بھی کہا جاتا ہے جس کے ذیرعے کراچی سے ملک کے شمالی علاقوں میں ایل این جی فراہم کی جائے گی۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمیں ملک کے جنوب سے شمال تک ایل این جی کی ترسیل کیلیے گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے لیے اگلے دو سے تین سال میں بہت اہمیت اختیار کر جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یا تو ہمارے پاس کوئی متبادل ہو یا پھر ہم اس معاہدے کو لے کر آگے بڑھیں گے، فی الحال کیلیے یہی سب سے بہترین متبادل ہے اور یہ معاہدہ یوکرین جنگ سے پہلے کا ہے۔

اخبار فنانشل ٹائمز میں دعویٰ کیا گیا کہ پچھلے چند سالوں میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان قربتیں بڑھی ہیں کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے روس کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

خبر میں کہا گیا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات مغرب سے روابط میں تناؤ پیدا کرسکتے ہیں۔

یورپی یونین، برطانیہ اور آسٹریلیا نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سیشن میں روس کی مذمت کرے۔

لیکن پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے ایک انتخابی جلسے میں مغربی ممالک کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سے غلاموں کی طرح سلوک کرتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر