آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل، جمعہ کو جواب متوقع، وزیر خزانہ

سینیٹر شوکت ترین نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات میں تعطل کی خبر صرف افواہ ہے، آئندہ سالوں میں معاشی شرح نمو بہتر ہوگی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات معطل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں، جمعہ تک آئی ایم ایف کا جواب آنا ہے۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں صحافی نے سوال کیا کہ کیا آئی ایم ایف نے مذاکرات معطل کر دیئے ہیں؟ وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ یہ صرف افواہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں، جمعہ تک ان کا جواب آنا ہے۔

اس سے پہلے کارپوریٹ پاکستان گروپ کے پیٹرو کیمیکل سمپوزیم سے خطاب میں وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان کو طویل مدت کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 60 کی دہائی میں ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت تھے، بھٹو نے 70 کی دہائی میں ادارے قومی تحویل میں لے کر معیشت کو متاثر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ نے بھی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچایا جبکہ سال 2008 سے 2018 تک معاشی ستون مضبوط بنانے پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی کی پالیسیوں سے پاکستان اب غذائی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو پاکستان نے دوست ممالک سے مدد مانگی لیکن انہوں نے توقع کے مطابق مدد نہیں کی جس کی وجہ سے عمران خان کو مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہوئی اور مہنگائی بڑھی۔ ہم جو بجلی استعمال نہیں کرتے اس کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔

سماجی تحفظ کیلئے احساس پروگرام کے تحت فنڈز خرچ کئے گئے۔ یہ سیاسی پروگرام نہیں صرف عوامی فلاح کا منصوبہ ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ دیئے جائیں گے۔

یہ 40 لاکھ خاندانوں کیلئے ایک بہترین پیکیج ہے، اگلے دو سے تین سالوں میں معاشی شرح نمو پائیدار ہوگی۔

متعلقہ تحاریر