الیکشن کمیشن کے طلب کرنے پر وزیراعظم کو جانا چاہیے تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ

پبلک آفس ہولڈر کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کا معاملہ، عدالت نے الیکشن کمیشن اور کابینہ ڈویژن سے جواب طلب کرلیا۔

عوامی عہدہ رکھنے والے کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن اور کابینہ ڈویژن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

پبلک آفس ہولڈر کی جانب سے انتخابی مہم چلانے پر الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا تھا، حکومت نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

حکومتی وکیل نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر کو الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا تھا، 14 مارچ کو طلب بھی کیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور دیگر الیکشن کمیشن میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، وزیراعظم کو پیش ہونا چاہیے تھا۔

وزیراعظم کے وکیل سید علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 کے مطابق پبلک آفس ہولڈر الیکشن کمپین چلا سکتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پبلک آفس ہولڈرز کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، الیکشن کووڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں۔

 

وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان اور سید علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔

وکلا نے کہا کہ 10 مارچ کو الیکشن کمیشن نے بے بنیاد حکم جاری کیا، عدالت الیکشن کمیشن کے حکم کو غیر قانونی قرار دے۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی وہی طاقت ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے ایکٹ کی ہوتی ہے، آئین کے مطابق سیکشن 181-A الیکشنز ایکٹ 201 7 کا حصہ ہے۔

وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن قانون کی عدالت نہیں ہے اور اسے آئین کے آرٹیکل 199 یا 1 84(3) کے تحت کسی بھی قسم کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

حکومتی وکیل کا موقف تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق چاہے کسی آرڈیننس کے ذریعے داخل کی گئی ہو یا دوسری صورت میں، صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کالعدم ہوسکتی ہے۔

 

وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 17 اور 19 آئین میں پارلیمانی طرز حکومت کا تصور دیا گیا ہے، اجتماعات تقاریر سب سیاسی سرگرمی کا لازمی حصہ ہیں۔

وکیل کا موقف تھا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کا بنیادی حق ہے کہ وہ اجتماع اور تقاریر میں شرکت کرے چاہے وہ عوامی عہدہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔

آرٹیکل 16 میں دیئے گئے اجلاس کی آزادی، آرٹیکل 17 میں آزادی کی انجمن اور آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی اعلیٰ عدالتوں نے بار بار تشریح کی ہے۔

جلسوں میں تقریر اور شرکت کرنا ریلیاں نکالنا، اور ہر قسم کی سیاسی سرگرمیاں کرنا اس سرگرمی کو کم یا محدود نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت 28 مارچ تک کے لئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ تحاریر