کراچی میں قتل ہونے والی 22 دن کی بچی کی قاتل والدہ نکلی
دوسری جانب بچیوں کے بڑھتے ہوئے قتل کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ صنفی تفریق ہے۔
کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں قتل ہونے والی 22 دن کی بچی کا قاتلا اس کی اپنی ماں ہی نکلی ، پولیس نے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے ماں کو گرفتار کرلیا ہے۔
ایس ایچ او لیاقت آباد لیاقت حیات کے مطابق سنگدل ماں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا ذبح کیا تھا ، دوران تفتیش ملزمہ کی نشاندہی پر آلہ قتل کر برآمد کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واٹر بورڈ حکام کی نااہلی، ضلع سینٹرل میں پانی کی چوری جاری
رحیم یار خان میں گھریلو ناچاقی پر خاتون سب انسپکٹر کی خودکشی
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بچی کی والدہ کا اپنے جرم کا اعتراف کررہی ہے۔ ملزمہ کا کہنا تھا کہ بچی کی وجہ سے میرا اور میرے شوہر کا اکثر جھگڑا رہتا تھا ہم ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پاتے تھے ، بچی کے روکنے کی وجہ سے رات کو سو نہیں پاتے تھے۔
ایس ایچ او لیاقت آباد کے مطابق بچی کی لاش 10 مارچ کو گھر سے برآمد ہوئی تھی ۔ ملزمہ نے خود کو بچانے کے لیے واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے گھر کا سامان بکھیر دیا تھا ، ملزمہ نے پولیس کو گھر میں ڈکیتی کی اطلاع دی تھی۔ ملزمہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ دوران ڈکیتی بے ہوش ہو گئی تھی۔
22 دن کی بچی کے قتل پر افسوس کرتے ہوئے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہماری قوم کی بیٹیاں کس ڈگر پر چل رہی ہیں ، کیسے کوئی ماں اپنی بیٹی کو صرف اس بنا پر قتل کرسکتی ہے کہ وہ اس سے سنبھل نہیں رہی تھی اور اس کے رونے کی وجہ سے اس کو نیند بھی پوری نہیں ہورہی تھی۔
دوسری جانب بچیوں کے بڑھتے ہوئے قتل کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ صنفی تفریق ہے ۔ ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کے ہاں جو پہلی اولاد ہو وہ بیٹا ہو۔ باپ سمجھتا ہے کہ بیٹا بڑا ہو کر اس کا بازو بنے گا ، جبکہ وہ بیٹی کو بوجھ سمجھ رہا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ جب وہ اپنے بچوں کو شادیاں کریں تو پہلے ان کو اس حوالے سے مکمل ایجوکیڈ کریں ، معاشرتی تفریق کو ختم کرنے کی تعلیم دیں ، بچوں اور بچیوں کے حقوق سے متعلق آگاہی دیں۔









