ریکوڈک تنازعہ حل، حکومت اور بیرک گولڈ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

نئے معاہدے پر اتوارکو وفاقی اور بلوچستان حکومت کے نمائندوں اور بیرک گولڈکے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارک برسٹو کی قیادت میں وفدنے دستخط کئے۔

ایک عشرے کی سب سے بڑی کامیابی،  ریکوڈک تنازعہ حل ہوگیا،  11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم،   مزید  10  ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ہوگی اور  8000 ملازمتوں کے دروازے بھی کھولیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ بلوچستان اورملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے ان کی حکومت بھرپورتوجہ دے رہی ہے، ریکوڈک معاہدے سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوگا جس سے بلوچستان میں عام شہریوں کا معیار زندگی بدل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

فروری 2022 میں برآمدات 100 ملین یومیہ تک پہنچ گئیں

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں گندم کی یکساں قیمت مقرر کردی

وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو چاغی میں تانبے اور سونے کی کانوں کی ترقی سے متعلق ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے ساتھ طویل عرصے سے جاری ریکوڈک تنازعہ کو کامیابی سے حل کرنے کے بعد حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اورکینیڈاکی بیرک گولڈکارپوریشن کے درمیان ہونے والے معاہدے پردستخظ ہونے کی تقریب میں شرکت کی۔

نئے معاہدے پر اتوارکو وفاقی اور بلوچستان حکومت کے نمائندوں اور بیرک گولڈکے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارک برسٹو کی قیادت میں وفدنے دستخط کئے۔ نئے معاہدے کی شرائط کے مطابق بیرک گولڈ کمپنی ریکوڈک منصوبہ پاکستانی اداروں کے ساتھ شراکت میں بحال اور تیار کرے گی۔ منصوبہ میں بیرک گولڈکمپنی کا 50 فیصد حصہ ہوگا۔

باقی 50 فیصد حصہ داری پاکستان کی ملکیت ہوگی جو وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگی۔معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کی 25 فیصدحصہ داری کو وفاقی حکومت کے تین سرکاری کاروباری اداروں (ایس اوایز) آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) میں یکساں طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ بلوچستان کا حصہ ایک کمپنی کے پاس ہوگا جس کی مکمل ملکیت اورکنٹرول حکومت بلوچستان کے پاس ہوگا۔

بلوچستان کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق منصوبے میں حکومت بلوچستان کے حصہ کا سرمایہ اور آپریٹنگ اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی یعنی دوسرے لفظوں میں حکومت بلوچستان کانوں کی ترقی پر کوئی مصارف ادانہیں کرے گی اور اس حوالہ سے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ منصوبے کوآگے بڑھانے کے ضمن میں بلوچستان میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس میں سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں اور کان کنی کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی تشکیل جیسے سماجی ترقی کے منصوبوں کیلئے 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

معاہدے کے نتیجہ میں سرمایہ کاری سے 8000 سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اوراس سے بلوچستان پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے زیادہ استفادہ کرنے والا صوبہ بن جائیگا، ریکوڈک منصوبہ دنیا میں تانبے اور سونے کی کان کنی کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہو گا۔ ملک کی معدنی دولت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت سمیلٹر (خام دھات کوپگھلانے والا کارخانہ)کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے۔یہ معاہدہ گزشتہ تین سال کے دوران بات چیت کے کئی ادوارکے بعد طے پایاہے۔

اگست 2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے معدنیات کی کانوں کی جلد ترقی کے مقصد کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس کاوش میں بین الاقوامی مشیروں کی مدد حاصل تھی۔ حکومت اس معاملے کو پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ معاہدہ تمام قوانین کے مطابق طے پایاہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان اورملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے ان کی حکومت بھرپورتوجہ دے رہی ہے ۔وزیراعظم نے اس امیدکا اظہارکیا کہ اس سرمایہ کاری سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوگا جس سے بلوچستان میں عام شہریوں کا معیار زندگی بدل جائے گا۔

وزیراعظم نے بلوچستان کے عوام کے لیے شفاف اور سازگار معاہدہ کرنے پر مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے بیرک گولڈ کارپوریشن کے وفد نے ملاقات کی۔ پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر وینڈی گلمور بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

متعلقہ تحاریر