تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ، تُرپ کا پتا اسپیکر کے پاس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی رکن اسمبلی کو ووٹ سے نہیں روک سکتے تاہم اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے اسمبلی میں حل کیا جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ آرٹیکل 95 ٹو کے تحت ووٹ سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے ، کسی رکن کے انفرادی ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کوئی پارٹی ڈی چوک پر جلسہ نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے تحریک عدم اعتماد اور سیاسی جماعتوں کے ممکنہ تصادم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

ماں بہن کی گالیاں دی گئیں، اگلا الیکشن پی ٹی آئی ٹکٹ سے نہیں لڑوں گا، نور عالم

کامران خان نے حکومت کی تبدیلی میں فوج اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کو عیاں کردیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے صورتحال کافی حد تک کلیئر ہو گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد حکومتی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے اب پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ، اسی طرح اب امید کی جارہی ہے کہ حزب اختلاف بھی ریڈ زون میں جلسہ نہیں کرے گی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جتھے لاکر کسی رکن اسمبلی کو روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم یہ اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے، بہتر ہوگا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ کسی رکن کو ووٹ کے حق سے روکا نہیں جاسکتا ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ کے حق سے نہیں روکا جائے گا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل (ii) 95 کے مطابق، جو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے طریقہ کار سے متعلق ہے، کسی رکن کے انفرادی ووٹ کی کوئی ’حیثیت’ نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ عدالت پہلے بھی مقدمات میں اسی طرح کی آبزرویشن دے چکی ہے جن کا تعلق سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیکر پر اعتراض ہو تو پارلیمنٹ میں اٹھائیں، اسپیکر بھی آئین کا حصہ ہے، اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ حکومتی جماعت پُرامن احتجاج کرے گی۔

عدالت نے کہا کہ کوشش کریں ڈی چوک پر جلسہ نہ ہو، اکھٹے بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں،یہ اجازت نہیں دیں گے کہ لوگوں کو لاکر کسی کوووٹ ڈالنے سے روک جائے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈزون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس حوالے سے پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

آئی جی اسلام آباد نے دوران سماعت بتایا کہ اسلام آباد میں  دفعہ 144 نافذ ہے، ریڈ زون کے اطراف تک دفعہ 144 کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے بھی کیس کی سماعت ہوئی جس میں حکومت کی جانب سے دریافت کیا گیا ہے کہ منحرف ارکان تاحیات نااہل ہونگے یا دوبارہ الیکشن لڑ سکیں گے؟،

ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا جبکہ چیف جسٹس نے 24 مارچ کی تاریخ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا موقف

ارکان کی ڈس کوالیفیکیشن کے حوالے جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ غیرقانونی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہے۔ دہری شہریت کے کیس کو ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کے ساتھ جوڑا نہیں جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے قبل آپ ڈی سیٹ ہوں اور پھر دوبارہ الیکٹ ہو کر واپس آجائیں۔

خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ اس ہارس ٹریڈنگ کی متاثرہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی رہی ہے ن لیگ بھی رہی ہے۔ اب اس کی متاثرہ پی ٹی آئی ہونے جارہی ہے۔ ہم صرف 63 اے کی تشریح چاہتے ہیں۔ اس تشریح کا فائدہ کسی ایک جماعت کو نہیں ہوگا بلکہ یہ ہمارے سیاسی پروسیس کے لیے ہوگی۔

انہوں نے کہا جو لوگ آج اس کی مخالفت کررہے ہیں ماضی میں وہ خود اس کے متاثرہ رہ چکے ہیں اور مستقبل میں ہوسکتے ہیں۔ یہ ہمیں ایک موقع ملا ہے تو بہتر یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکے ایک پوائنٹ پر اتفاق کرلیں۔

گذشتہ روز کی سماعت اور تبصرہ

گذشتہ روز کی سماعت پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی کا حامل ہے کہ عدالت اسپیکر کی پاور پر کوئی رولنگ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ اسمبلی کا معاملہ اور اسمبلی میں حل ہونا چاہیے۔ کیونکہ اپوزیشن کا مرکز نگاہ صرف اسپیکر کو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جانا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے اس بات پر بھی کوئی ریمارکس نہیں دیئے کہ اجلاس دیر سے کیوں کال کیا گیا ہے ۔ اور نہ اس پر کوئی بات کی کہ ووٹنگ کا عمل کب اور کسے ہو گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ کہ ووٹ کے حق سے کسی کو نہیں روک سکتے مگر ووٹ پارٹی کا حق ہے کسی رکن ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ اس کا مطلب اب منحرف ارکان ووٹ تو ڈالنے جائیں گے مگر اس ووٹ کو ووٹ تسلیم کرنا اسپیکر کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ اسے تسلیم کرے یا نا کرے۔ اور اگر کاسٹ کیا ہوا ووٹ ریجیکٹ ہو جاتا ہے تو تحریک عدم اعتماد خود بخود فیل ہو جائے گی۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالت نے اسپیکر کسٹوڈین آف دا ہاؤس قرار دے دیا اور 63 اے کی تشریح کے لیے لارجز بنچ تشکیل دے دیا گیا۔ 63 اے کی تشریح کب ہوتی ہے یہ بعد کی بات ہے تاہم موجودہ صورتحال میں سارے اختیارات اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس چلے گئے ہیں جو اپوزیشن کے خلاف کسی بھی طور خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

متعلقہ تحاریر