کم عمر ترین  اسنوکر چیمپیئن احسن رمضان نے کامیابی کا سہرا بہن کے سر باندھ دیا

اپنی کامیابیوں  کا سہرا اپنی بہن کے سر دینے والے احسن رمضان کا کہنا ہے کہ میری کامیابی میں میری بہن کا سب سے بڑا کردار ہے

اسنوکر کی تاریخ میں پاکستان کا نام سنہری حروف میں لکھنے والے  پاکستان کے 16 سالہ احسن رمضان دنیا کے سب سے کم عمر ورلڈ ایماچوئر اسنوکر چیمپیئن بن گئے ہیں، اپنی کامیابیوں  کا سہرا اپنی بہن کے سر دینے والے احسن رمضان کا کہنا ہے کہ میری کامیابی میں میری بہن کا سب سے بڑا کردار ہے ۔

گذشتہ ہفتے قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں ہونے والی بین القوامی بلیئرڈز اسنوکر فیڈریشن کی عالمی اسنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار ایران کے عامر سرکوش کو پانچ کے مقابلے میں چھ فریم سے شکست دینے والے پاکستان کے احسن رمضان   نے کامیابی کے بعد لاہور پہنچے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو اپنی بہن کی حمایت کو قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والدین کا انتقال ہوگیا ہے میری بڑی بہن ماریہ ہی میری  والدہ ہیں ، میری کامیابی  میری بہن ہی کی وجہ سے ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

16 سالہ احسن رمضان نے آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی

عالمی اسنوکر چیمپیئن لاہور پہنچنے پر  فقید المثال استقبال  کیا گیا ، اس موقع پر احسن رمضان کی بڑی بہن  نے  استقبال  کیلئے آنیوالوں سے  مختصر خطاب کرتےہوئے کہا کہ  جب ہمارے والد صاحب فوت ہوئے تو احسن نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا آج اس کو جو مقام  حاصل ہے اس میں اس کی ہمت اور انتھک محنت شامل ہے ۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اس کی ہر موڑپر ہمت افزائی کی اور مشکلات کے باوجود اس کو اس کو اس کے شوق سے نہیں روکا اور آج اس نے پاکستان کا نام  بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر