مریم نواز کے سوات جلسے کی منسوخی کی وجہ کیا بنی ؟
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بیماری کے باعث تحریک عدم اعتماد سے قبل سوات میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف شروع کی جانے والی اپنی سیاسی مہم ملتوی کر دی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی نائب صدر مریم نواز نے بیماری کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیر قیادت موجودہ حکومت کے خلاف اپنے سوات جلسے کو منسوخ کردیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ مریم نواز شدید بخار میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جہانگیر ترین گروپ نے حکومت کا ساتھ دینے کا اشارہ دے دیا
قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بعد بلانا آئین شکنی ہے، شیری رحمان
مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ "سوات میں جلسہ منسوخ ہونے پر مریم نواز نے خیبر پختون خوا اور سوات کے کارکنان سے معذرت کی ہے۔”
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا بیان
مریم نوازشریف کی اچانک طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے آج منگل کو سوات کا جلسہ منسوخ کردیا گیا ہے
مریم نوازشریف کو تیز بخار ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز نے انہیں سفرکرنے سے منع کیا ہے
— PML(N) (@pmln_org) March 21, 2022
خیبرپختونخوا خاص طور پر اہل سوات سے معذرت خواہ ہیں
مریم نواز شریف کو اعتماد ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شیر کے نشان پر مہرلگائیں گے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور کارکنان کے لئے مریم نوازشریف نے نیک تمناﺅں کا پیغام دیا ہے
— PML(N) (@pmln_org) March 21, 2022
نیوز 360 کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز کا بیماری کا تو صرف بہانہ ہے ، اصل میں مقتدر حلقوں کے ساتھ ایک خاموش معاہدے کے تحت مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف ، وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے تک سیاسی مہم جوئی میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ "مریم نواز نے گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت، عمران خان اور اداروں کی غیر جانبداری کے خلاف بیانات دے کر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔”
“معاہدے کے تحت نواز شریف اور مریم نواز نے طویل عرصے سے سیاسی منظر نامے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے انہیں معاہدے کے مطابق سوات جلسے سے روک دیا گیا۔
گذشتہ روز مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے وزراء کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ” نیوٹرل ہونا کیا ہے؟آئین کی پاسداری ہے نا.آئین کی پاسداری ہر محب وطن پاکستانی چاہے وہ آپ ہوں یا میں ہوں یا کوئی سیاسی جماعت ہو سب پہ لازم ہے.”
نیوٹرل ہونا کیا ہے؟آئین کی پاسداری ہے نا.آئین کی پاسداری ہر محب وطن پاکستانی چاہے وہ آپ ہوں یا میں ہوں یا کوئی سیاسی جماعت ہو سب پہ لازم ہے.یہ تو اچھی بات ہے کہ جو آئین کی پاسداری کی بات کررہا ہے اس پہ اتنا سیخ پاء ہونے اور مچھلی کی طرح تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے.@MaryamNSharif pic.twitter.com/vbryGJhQxS
— PML(N) (@pmln_org) March 21, 2022
مریم نواز نے مزید کہا تھا کہ "یہ تو اچھی بات ہے کہ جو آئین کی پاسداری کی بات کررہا ہے اس پہ اتنا سیخ پاء ہونے اور مچھلی کی طرح تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے.”
انہوں نے اپنے گذشتہ روز کے بیان میں الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان نے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کو نیوٹرل نہیں رہنے دیا، نیوٹرل کے لفظ پر آپ کی پارٹی بکھر گئی۔
نیوٹرل ہونا کیا ہے؟آئین کی پاسداری ہے نا.آئین کی پاسداری ہر محب وطن پاکستانی چاہے وہ آپ ہوں یا میں ہوں یا کوئی سیاسی جماعت ہو سب پہ لازم ہے.یہ تو اچھی بات ہے کہ جو آئین کی پاسداری کی بات کررہا ہے اس پہ اتنا سیخ پاء ہونے اور مچھلی کی طرح تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے.@MaryamNSharif pic.twitter.com/vbryGJhQxS
— PML(N) (@pmln_org) March 21, 2022
اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ شہباز شریف اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔
صرف مریم نواز ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی پی ٹی آئی حکومت پر تحریک عدم اعتماد سے بچنے کی کوششوں کا الزام لگایا تھا۔









