کرناٹک حکومت کا مسلمان طالبات کو دوبارہ امتحان دینے کی اجازت دینے سے انکار
حجاب کی وجہ سے غیر حاضر تھیں ان کے لئے امتحانات کا دوبارہ اہتمام ممکن نہیں ہے

بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے باعث ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث مسلمان طالبات نے بغیر حجاب کے پریکٹیکل امتحانات میں شرکت سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں تیس نمبروں سے محروم ہونا پڑا تھا ، حکومت نے طالبات کو دوبارہ امتحانات میں شرکت کرنے کا موقع دینے سے انکار کردیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق ریاست میں کوئی بھی طالبہ اسکول یونیفارم کے علاوہ کسی بھی قسم کا حجاب یا ہندوؤں کی روایتی زعفرانی شال پہنے کا مجاز نہیں ہوگا ، اس فیصلے کے بعد کئی مسلم طالبات نے کرناٹک بھر میں کلاسوں اور امتحانات کا بائیکاٹ کیاتھا ۔
یہ بھی پڑھیے
بی جے پی رہنما کی بیٹیوں نے حجاب اوڑھ لیے
کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب پر پابندی کو جائز قرار دے دیا
کرناٹک کے وزیرتعلیم بی سی ناگیش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مسلمان طالبات کے پریکٹیکل امتحامات لو دوبارہ منعقد کرانےکو مستردکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ طالبات جو امتحانات کے دوران حجاب کی وجہ سے غیر حاضر تھیں ان کے لئے امتحانات کا دوبارہ اہتمام ممکن نہیں ہے تاہم اگر عدالت سے رجوع کرنا چاہیں تو کیا جاسکتا ہے عدالت کا جو بھی حکم ہوگا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
وزیرتعلیم نے کہا کہ اگر اس طرح احتجاج کرنے والوں کو دوبارہ امتحانات کا موقع دیا گیا تو کل کوئی بھی اپنی من مانی کےلئے احتجاج کرے گا جس کے لئے حکومت تیار نہیں ہے اور نا ہی یہ ریاست کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ ناگیش نے کہا کہ جس طرح طالبات نے حجاب پہن کر ہی امتحان دینے کی ضد پر قائم رہی اور اپنا احتجاج درج کرتی رہیں، ان کے ساتھ حکومت کی طرف سے کسی بھی طرح کی مرّوت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔
دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلبہ نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مارچ نکال کر صدر جمہوریہ کے نام میمورنڈم دیا۔ طلبہ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے لیکن مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہے، قرآن مجید میں واضح طور پر خواتین کے لئے پردہ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اے ایم یو طلبہ کا کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ 14، 15 اور 25 کی صریح خلاف ورزی ہے، اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔









