سپریم کورٹ کے لارجز بنچ پر سینئر صحافیوں نے تحفظات کا اظہار کردیا

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا، صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کے جواب مانگے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے لارجز بنچ تشکیل دے دیا ہے تاہم لارجز بنچ میں سینئر ترین جج کو شامل نہ کرنے پر سینئر صحافیوں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

21 مارچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سیاسی جماعتوں کے ممکنہ تصادم کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ، اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف آرٹیکل 6 سے متعلق کیس کی سماعت اور آرٹیکل 63 اے کے حوالے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف قوم پر احسان کریں ، کاوے موسوی کے خلاف کیس فائل کریں

ہماری عظمت کا نشان مینار پاکستان ، تعمیر اور تاریخی پس منظر

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ جتھے لاکر کسی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کی ٹائمنگ اور جلسے کی جگہ الگ الگ ہونی چاہیے۔

عدالت نے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے، بہتر ہوگا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے۔

اسی دوران عدالت عظمیٰ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے بھی کیس کی سماعت کی ، جس میں حکومت کی جانب سے دریافت کیا گیا ہے کہ منحرف ارکان تاحیات نااہل ہونگے یا دوبارہ الیکشن لڑ سکیں گے؟،

ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے   سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا جبکہ چیف جسٹس نے 24 مارچ کی تاریخ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "منصف اعلیٰ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا شامل ہونے والے اور شامل نہ کیے جانے والے سب کی جانکاری عیاں ہے سینئر ترین ججز کو دستیاب ہونے کے باوجود شامل نہ کیے جانے سے نظریہ گلزار کہ تم آجاو تم رہنے دو کی بو آرہی ہے۔ فاضل منصف اعلیٰ اپنی اس پہلی ہی آزمائش میں باوزن نہیں پائے گئے۔”

لارجز بنچ میں سینئر ترین جج کو شامل نہ کرنے پر ایک اور سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عدم اعتماد پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا اور ایک بار پھر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس فائز عیسی کو شامل نہیں کیا۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "صدارتی ریفرنس کی سماعت تاریخ بدل سکتی ہے۔”

صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے چار سوالات کی تشریح کا مطالبہ

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا، صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کے جواب مانگے گئے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی کونسی تشریح قابل قبول ہے؟ کیا پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے سے نہیں روکا جا سکتا؟ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ شمار نہیں ہوگا، ایسا کرنے والا تاحیات ناہل ہوگا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا منحرف ارکان کا رکن ووٹ شمار ہوگا یا گنتی میں شمار نہیں ہوگا؟۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا رکن صادق اور امین نہں رہے گا، کیا ایسا ممبر تاحیات نااہل ہوگا؟۔

آخری سوال یہ ہے کہ فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے مزید اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔

صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ معاملے کو سننا چاہتے ہیں، فریقین تیاری سے آئیں، حکومتی اتحادیوں کو نوٹس جاری نہیں کیے، اگر اتحادی اپنی نمائندگی چاہتے ہوں تو گزارشات دے دیں، کوشش کریں گے جلد ریفرنس پر اپنا فیصلہ دیں، صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی تاخیر کا شکار نہیں ہو گی۔

چیف جسٹس نے 24 مارچ سے صدارتی ریفرنس پر سماعت کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس دستاویزات نہیں ہے کہ 25 کو اجلاس بلانے کی کیا وجہ ہے بتائیں؟ ہمیں ان وجوہات کو دیکھنے کا جواز نہیں ہے، ایڈوائزر اختیار میں صدارتی ریفرنس آیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنے نہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناع نہیں مانگ رہے ہیں، صدارتی ریفرنس کی وجہ سے اسمبلی کارروائی متاثر نہیں ہوگی، کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، ووٹ شمار ہونے کے معاملہ پر ریفرنس میں سوال اٹھایا ہے، ووٹ ڈالنے کے بعد کیا ہو گا یہ ریفرنس میں اصل سوال ہے۔

متعلقہ تحاریر