کراچی، مَردوں کا فلیٹ میں گھس کر خواتین پر تشدد اور گالم گلوچ
صحافی افضل ندیم ڈوگر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مشتعل ہجوم گالیاں بکتے ہوئے گلستان جوہر کے فلیٹ میں گھس گیا، خواتین سے بدتمیزی کی۔

صحافی افضل ندیم ڈوگر نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کچھ مرد خواتین سے بدتمیزی کر رہے ہیں۔
افضل ڈوگر کے مطابق یہ ویڈیو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر کے اپارٹمنٹس کی ہے جہاں مردوں کا ایک ہجوم فحش الزام لگا کر فلیٹ میں گھس گیا۔
غلط کاری کے نام پر مردوں کا مجرمانہ عمل، پولیس خاموش
کراچی گلستان جوہر بلاک 16 کے رہائشی اپارٹمنٹس نعمان سٹی میں مردوں کا ہجوم نے غلط کاری کا الزام لگا کر ایک فلیٹ میں گھس گیا۔ وائرل ویڈیو میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور گالم گلوچ
خواتین پر تشدد کرتے ہوئے گالیاں pic.twitter.com/46sN0LZ7hv— Afzal Nadeem Dogar (@GeoDogar) March 23, 2022
ہجوم نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور گالم گلوچ کی، خواتین کو تشدد کرتے ہوئے گالیاں دیں۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات معلوم نہ ہوسکیں کہ آیا خواتین کی جانب سے پولیس میں اس واقعے کا مقدمہ درج کروایا گیا یا نہیں لیکن یہ ویڈیو دیکھ کر ایک معاشرتی مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
پاکستان میں لوگوں کو moral policing یعنی معاشرے کی اخلاقی اقدار کی حفاظت کرنے کا بہت شوق ہے۔
خواتین سے بدسلوکی کرنے والے ان ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ کون سا قانون انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ خواتین سے ایسے پیش آئیں؟
کوئی بھی شہری کسی دوسرے شہری سے بےجا سوالات کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
ویڈیو میں موجود مرد خواتین کو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ پوچھ رہے ہیں کہ وہ کہاں سے آئی ہیں؟ کس نے بلایا ہے؟ کہاں رہتی ہیں؟
اگر ان حضرات کو اتنا ہی یقین تھا کہ خواتین مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہیں چاہیے تھا کہ پولیس کو اطلاع کرتے اور قانونی کارروائی ہونے دیتے۔
خود ہی وکیل بن کر سوال کرنا، خود ہی منصف بن کر فیصلے صادر کرنا اور خود ہی سزائیں دینا سراسر غیرقانونی ہے۔









