خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو ہراساں کرنے والا عادی مجرم نکلا

ملزم ملک عمران حیدر خان نے اسسٹنٹ کمشنر ماوری ملک شیر کی گاڑی روکی اور ان سے بدتمیزی کی، ملزم پر ہراسانی کے مقدمات درج ہیں۔

پچھلے دنوں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ ماروی ملک شیر کی گاڑی پر حملہ کیا گیا اور کمشنر صاحبہ کو ہراساں کیا گیا، سماجی رہنما کیپل دیو نے اس واقعے کے مرکزی ملزم کے خلاف درج ایف آئی ار کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کی ہیں۔

کپیل دیو نے بتایا کہ واقعے کا مرکزی ملزم ملک عمران حیدر خان اسی طرح کے واقعات میں پہلے بھی ملوث رہا ہے۔

ملزم نے پہلے بھی کئی خواتین کو ہراساں کیا اور اس کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر ماروی ملک شیر نے اوباش لڑکوں کے حملے کے بعد ٹوئٹر پر پہلا بیان جاری کیا ہے۔

اے سی صاحبہ نے ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ یوم پاکستان کے موقع پر فیلڈ میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے دنوں مانسہرہ کی اسسٹنٹ کمشنر ماروی شیر ملک پر تین افراد نے حملہ کیا تھا، ملزمان نے ان کی گاڑی کو کئی بار اوور ٹیک کیا اور گاڑی سامنے کھڑی کرکے روک دیا۔

ملزمان نے کہا کہ یہ عورت ہو کر ہم پر اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئی ہے، ہم کسی عورت کو اے سی یا ڈی سی نہیں مانتے۔

تلخ کلامی کے دوران ایک ملزم نے خاتون افسر کو گولی مارنے کا بھی کہا، کھینچ تان کے دوران افسر کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔

اے سی ماروی ملک شیر کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان ملک عمران حیدر، ملک محمد عتیق اور انیس خان کو گرفتار کیا۔

ملزمان کی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو پستول، رپیٹر، گولیاں اور شراب بھی برآمد ہوئی تھی۔

متعلقہ تحاریر