سینیٹر شبلی فراز نے منحرف اراکین اسمبلی کو لوٹا قرار دے دیا

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے اٹھاراں سالوں سے بیٹھے ہوئے لوگوں نے ماضی میں بھی چھانگا مانگا کا بازار لگایا تھا۔

وفاقی وزیر اور سینیٹر شبلی فرار کا کہنا ہے اگر کسی کو پارٹی سے اختلاف ہے تو پہلے استعفیٰ دے اور دوبارہ الیکشن لڑ کے اسمبلی میں آئے ، منحرف اراکین اسمبلی کو لوٹا ہی کہا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ضمیر خریدے جارہے مگر ہمیں انہیں روکنا ہے ، اٹھاراں سالوں سے بیٹھے ہوئے لوگوں نے خود پر جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان میں جلد الیکشن ہونے کا اشارہ دے دیا

جو نہیں ہونے والا وہ ہونے والا ہے، عامر لیاقت حسین کا معنی خیز بیان

وفاقی وزیر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین کو تحریک انصاف کا ووٹ پڑا تھا ، پارٹی میں شمولیت کا مطلب پارٹی کا ڈسپلن فالو کرنا ہوتا ہے ، تحریک انصاف آئین کی بالادستی کے لیے سب سے اگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سپرائزز ہیں جو آخری موقع پر سامنے لائے جائیں گے ، اداروں کو فٹبال کا گراؤنڈ بنایا گیا ہے جہاں ادھر سے ادھر جایا جاتا ہے ،ماضی میں چند پارٹیاں لوگوں کو چھانگا مانگا لے کر گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے حکومتی وسائل استعمال کرکے لوگوں کو نہیں خریدا،  تحریک انصاف نے بیس ممبران کو پارٹی سے باہر نکال دیا، سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف میں کوئی شامل نہیں ہوا۔

سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی کے لیے ہم نے کسی سے ووٹ نہیں خریدا، عدم اعتماد کی شک ختم نہیں کروائیں گے لیکن تشریح کی ضرورت ہے۔

متعلقہ تحاریر