پی پی ایم این اے جام عبدالکریم کا نام ای سی ایل میں شامل
وزیرداخلہ شیخ رشید کاایف آئی اے کو جام عبدالکریم کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا بھی حکم، گورنر سندھ نے بھی جام عبدالکریم کی گرفتاری کیلیے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا

تحریک عدم اعتماد کے نمبر گیم میں وفاقی حکومت کو کراچی کے ناظم جوکھیوکا قتل یاد آگیا۔ وفاقی حکومت نے ناظم جوکھیو قتل کیس میں مفرور پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کیلیے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
وزیرداخلہ کا پیپلزپارٹی کے ایم این اے جام عبدالکریم کو گرفتار کرنیکا اعلان
ناظم جوکھیو قتل کیس: جوڈیشل مجسٹریٹ کا پولیس چالان پر فیصلہ محفوظ
وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کی ای سی ایل کمیٹی کے اجلاس میں جام عبدالکریم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا۔
کمیٹی نے ملزم کو دبئی سے واپسی پر فوری گرفتار کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں ملوث ہونے کے باعث جام عبدالکریم کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔وزیرداخلہ شیخ رشید نے ایف آئی اے کو جام عبدالکریم کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔
دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی جام عبدالکریم کی گرفتاری کیلیے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ملزم عبدالکریم کا نام صوبائی قومی شناختی فہرست (پی این آئی ایل) میں فوری درج کیا جائے۔ ملزم جام عبدالکریم جوکھیو تھانہ میمن گوٹھ، ضلع ملیر میں ایف آئی آر 457/2021 میں نامزد ہے۔
ایف آئی اے کو لکھے گئے خط کے مطابق یہ قدم وسیع تر عوامی مفاد میں اٹھایا جا رہا ہے۔اس قدام کا مقصد متعلقہ عدالت میں اس کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔ ملزم مذکورہ قتل کیس میں مفرور ہے اس لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس حوالے سے ایک وڈیو بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں نےڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ جام کریم جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتریں انہیں گرفتار کرکے انہیں سندھ پولیس کے حوالے کیا جائے کیونکہ وہ قتل کے گھناؤنے مقدمے عدالت کو مطلوب ہیں۔ ہم کسی ملزم کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔









