قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک پیش کرتے کہا کہ وہ یہ تحریک قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط 2007 کی ذیلی شق 4 کے تحت وزیراعظم کے  پیش کررہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی،تحریک قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پیش کی،تحریک پر بحث 31مارچ کو ہوگی۔ اپوزیشن کے 161 اراکین نے کھڑے ہوکرتحریک کی حمایت کی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک پیش کرتے کہا کہ وہ یہ تحریک قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط 2007 کی ذیلی شق 4 کے تحت وزیراعظم کے  پیش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک عدم اعتماد، بی اے پی کا اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ

آرمی چیف کو نواز شریف نے غاصب قرار دیا تھا کے سوال پر مریم نے چپ سادھ لی

ان کا کہنا تھاکہ اس ایوان کووزیراعظم پر اعتماد نہیں رہا لہٰذا عمران خان نیازی کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

قواعد کے مطابق تحریک پیش کرنے کے حوالے سے 20 فیصد ارکان کی جانب سے تحریک کی حمایت کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔

ایوان میں یہ تعداد 68 بنتی ہے تاہم اپوزیشن کے 161 ارکان نے کھڑے ہو کر تحریک کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔

اس موقع پرحکومتی اتحادی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین ایوان میں موجود نہیں تھے۔

تحریک عدم اعمتاد 161 اراکین کی حمایت سے منظور کی گئی تو قائد حزب اختلاف نے تحریک پر بحث کے لیے قرارداد پیش کی۔

قائد حزب اختلاف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 95 کی ذیلی شق ون کے تحت یہ ایوان اس قرارداد کے ذریعے وزیراعظم عمران خان نیازی پر عدم اعتماد کرتا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 31 مارچ (جمعرات) شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔قرارداد پر بحث 31 مارچ کو ہوگی جس کے بعد  تحریک عدم اعتماد کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔قواعد و ضوابط کے مطابق مطابق تحریک عدم اعتماد پر تین دن سے پہلے ووٹنگ نہیں ہوسکتی جبکہ 7 دن کے اندر ووٹنگ کے ذریعے اراکین قومی اسمبلی کی رائے جاننا لازمی ہے۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی زین حسین قریشی نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل 2022 (جنوبی پنجاب صوبے) کی قرارداد پیش کی۔

متعلقہ تحاریر