وزیراعظم کا اسلام آباد جلسہ، میڈیا غیرجانبدارانہ کوریج میں ناکام
پاکستانی میڈیا نے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کے بڑے عوامی جلسے کی کوریج اور تجزیہ کرنے پر غیر جانبداری پر سمجھوتہ کرتا رہا۔
اسلام آباد: پاکستانی میڈیا اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کے بڑے عوامی اجتماع کی کوریج اور تجزیہ کرنے پر غیر جانبداری پر سمجھوتہ کرتا رہا۔
کچھ سینئر صحافیوں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے منتظمین نے انہیں روکنے کے لیے پنڈال کے بیچ میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
جے یو آئی(ف) کے مہنگائی مکاؤ مارچ میں عارضی بازار سج گیا
وفاقی وزیر داخلہ نے بلاول بھٹو زرداری کو آخری وارننگ دے دی
پی ٹی آئی حکومت کے ناقد صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پریڈ گراؤنڈ کے عوامی اجتماع کی کوریج کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت مخالف صحافیوں نے حکومت کے 27 مارچ کے جلسے میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی مختلف دعوے کیے۔
سینئر اینکر پرسن حامد میر نے ایک ویڈیو کو ری ٹویٹ کیا جس میں جیو نیوز کی خاتون صحافی مریم نواز خان کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گھیرے میں لے کر کوریج سے روک دیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ” کم از کم ایک آدمی تو ایسا ہے جو اپنے ساتھیوں کو بد تمیزی سے روک رہا ہے اس آدمی کا شکریہ۔”
کم از کم ایک آدمی تو ایسا ہے جو اپنے ساتھیوں کو بد تمیزی سے روک رہا ہے اس آدمی کا شکریہ https://t.co/tVIZ9L06Jb
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) March 27, 2022
معروف صحافی عدیل راجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” جیو نیوز کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں ہے جبکہ صرف ان کا اینکر اندر ہے.. یہ کس کوریج پر پابندی کی بات کر رہے ہیں؟”
Geo News saying private media not allowed but only their anchor is inside.. what coverage ban are they talking about? pic.twitter.com/LwzkoaSDXk
— Adeel Raja (@adeelraja) March 27, 2022
اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر جاتے ہوئے سینئر صحافی کامران یوسفزئی نے لکھا ہے کہ ” پی ٹی آئی جلسے میں 3 گھنٹے گزارے اور میں نے اور میرے ساتھی رپورٹر رضوان شاہد نے جلسہ گاہ کا پورا چکر لگایا تو ہم دونوں کے مطابق 45 سے 60 ہزار کے قریب لوگ تھے جس میں 60 فیصد کا تعلق کے پی سے تھا!”
پی ٹی آئی جلسے میں 3 گھنٹے گزارے اور میں نے اور میرے ساتھی رپورٹر @RizwanShehxad نے جلسہ گاہ کا پورا چکر لگایا تو ہم دونوں کے مطابق 45 سے 60 ہزار کے قریب لوگ تھے جس میں 60 فیصد کا تعلق کے پی سے تھا!
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) March 27, 2022
سینئر صحافی اور اینکر پرسن سید طلعت حسین نے لکھا ہے کہ "40 ہزار سے کچھ زیادہ افراد جلسے میں موجود تھے اگر مین گیٹ کے باہر سڑک پر موجود افراد کو بھی شامل کرلیا جائے۔”
Final intel count. 40,000 plus including those on the road outside the main gate.
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) March 27, 2022
یوٹیوبر اور وی لاگر اسد علی طور نے اپنی تحریر میں دعویٰ کیا ہے کہ "وزیراعظم کی تقریر سننے کے لیے انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ کے مطابق 15 ہزار افراد موجود تھے جبکہ اسپیشل برانچ والوں کا کہنا ہے کہ پریڈ گراؤنڈ میں 20 ہزار افراد موجود تھے۔”
#BREAKING: Intelligence bureau say 15,000 and Special Branch claims 20,000 headcount present “inside” the venue of parade ground for listening speech of PM @ImranKhanPTI, sources
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) March 27, 2022
دوسری جانب حکومت کے حامی صحافیوں کو بھی پی ٹی آئی کے جلسے کی کامیابی کے حوالے سے دعوے کرتے ہوئے دیکھا گیا، پاور شو کی کوریج کے لیے وہاں پہنچنے والے کچھ صحافیوں کے ساتھ کوریج کے دوران کچھ ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔









