پی ٹی آئی حکومت کا معاملہ ایم کیو ایم کی ہاں یا نا سے جڑ گیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملانے کے دعوے سیاسی حربے ہیں ، پاکستان میں حکومتوں کے جانے یا نہ جانے کے فیصلے اوپر ہوتے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کو لے کر سیاسی پارہ عروج پر ہے۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے فیصلے کے بعد متحدہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کو رام کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان آج متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے اسلام آباد میں ملاقات کریں گے جبکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے لیے گورنرشپ کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اپوزیشن سے ڈیل میں مریم نواز رکاوٹ بن گئیں، پرویز الہٰی

فردوس عاشق اعوان کی ن لیگ میں شمولیت کی خبروں کی تردید

گذشتہ روز وزیر دفاع پرویز خٹک اور گورنر سندھ نے ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کی تھی اور انہیں ایک اور وزارت کے ساتھ ساتھ سندھ کی  گورنرشپ کی آفر دی تھی۔

ایم کیو ایم اور حکومت وفد کی ملاقات کی اندر کی خبر دیتے ہوئے معروف صحافی اور اینکر پرسن عمران خان نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ایم کیو ایم کو پورٹ اینڈ شپنگ سمیت 3 وزارتیں، گورنر سندھ کا عہدہ اور شہری سندھ میں سیاسی مفادات پر مدد۔ اپوزیشن کی آفرز پر معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی۔ خان حکومت کے پاس چند گھنٹے باقی۔ کیا وہ اس سے کچھ زیادہ یا اتناآفر کر سکتے ہیں؟۔“

دوسری جانب متحدہ اپوزیشن کے وفد نے کل متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی تھی۔

اپوزیشن وفد میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سمیت کئی دیگر رہنما شریک تھے۔

اپوزیشن کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ تمام معاملات طے پر گئے ہیں ۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا اعلان آج مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کریں گی۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) حکومت کا ساتھ دے گی یا پھر اپنی حمایت حزب اختلاف کی جھولی میں ڈالے گی؟ اس پر غور کرنے کے لیے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ان کے عارضی مرکز بہادرآباد ہورہا ہے، جس میں شرکت کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت کراچی پہنچ چکی ہے۔ اجلاس دوپہر دو بجے طلب کیا گیا ہے۔

اس ساری صورتحال کو کلیئر کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکزی رہنما فیصل سبزواری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”متحدہ اپوزیشن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان معاہدہ نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔“

فیصل سبزواری نے مزید لکھا ہے کہ ”پیپلز پارٹی کی سی ای سی، ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد اس کی تفصیلات سے کل شام بجے باضابطہ میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔“

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملانے کے دعوے سیاسی حربے ہیں ، پاکستان میں حکومتوں کے جانے یا نہ جانے کے فیصلے اوپر ہوتے ہیں ، ایم کیو ایم اس وقت بھی حکومت کا حصہ ہے ، دو وفاقی وزارتیں ایم کیو ایم کے پاس ہیں۔ تاہم اس ساری صورتحال میں ایم کیو ایم بھی کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن فیصل سبزواری کے ٹوئٹ نے حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر