تحریک انصاف کے دور حکومت کی بڑی معاشی کامیابیاں، قسط پنجم
تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کےلیے بھرپور ریلیف دیا۔ پٹرول او ر ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر کی گئی
تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ٹیکسٹائل شعبہ کی بہتری کے لیے خاص اقدامات کیے گئے۔ ٹیکسٹائل شعبے کے مینوفیکچرز کو اسٹیٹ بینک کے خام مال کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کی شرط میں چھوٹ دی اس طرح مینوفیکچرز کے لیے سرمایہ کی قلت سے متعلق شکایات کا ازالہ ہوا۔
ٹیکسٹائل کے شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات:
ٹیکسٹائل کے شعبے کے برآمدکنندگان کو بجلی اور گیس کے نرخوں میں رعایت دی گئی۔ ان کے لیے بجلی اور گیس کے ریٹ کم کیے گئے، جس سے پیداواری لاگت میں کمی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کیلئے مکمل تعاون فراہم کریں گے، گورنر اسٹیٹ بینک
آئی ایم سی نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ایوارڈ 2022 جیت لیا
ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کمی کی گئی۔ اس شعبہ سے وابستہ مختلف اقسام کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں جہاں ممکن ہوا وہاں خاتمہ کیا گیا اور جہاں انہیں ختم کرنے ممکن نہیں تھا وہ رعایتی ڈیوٹیز عائد کی گئیں۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسٹائل اور لیدر مصنوعات کے 240 خام مال سستے کیے گئے۔ جن خام مال کو سستا کیا گیا ان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مختلف قسم کے کیمیکل، بٹن، رنگ، مشینری اور آلات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بجٹ میں مجموعی طور پر ملک بھر کی تمام کی صنعتوں کے لیے 3400 سے زائد اقسام کے مختلف خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی کی گئی۔
ٹیکسٹائل کے شعبے میں جنرز کو بھی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور جنرز کی آمدن پر ٹرن اوور کے بعد ایک فیصد ٹیکس کی شرح کا اطلاق کیا گیا۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں یہ اعلان بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے ڈرابیک آن لوکل ٹیکس اور لیویز، ڈی ایل ٹی ایل کے تحت 5.6 ارب جاری کر رہی ہے۔ اگست 2021 میں اس اعلان پر عمل درآمد ہوتا نظر بھی آیا۔
ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے ٹیکس ری فنڈکی دائرہ کار بڑھایا اور اس کی رفتار تیز کی گئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکسٹائل سمیت تمام شعبہ جات کے سیلز ٹیکس کے نظام کو موثر بنایا۔ اس سلسلے میں خصوصی فاسٹر نظام عائد کیا گیا۔ ٹیکس ریفنڈ کے نظام کو خود کار بنایا گیا تاکہ ٹیکس ریفنڈ میں ٹیکس افسران کی مداخلت کم سے کم ہو۔ ٹیکس ریفنڈ چیک کی بجائے براہ راست متعلقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ اس طرح ٹیکسٹائل شعبے کے لیےفوری ری فنڈ ملنے سے اس شعبے کے مینوفیکچرز کو سرمائے کی قلت سے متعلق مشکلات میں کمی ہوئی۔
تحریک انصاف کی حکومت نے ٹیکسٹائل کےشعبے میں ڈی ایل ٹی ایل کے تحت برآمدکنندگان کو سہولیات فراہم کیں۔ ڈی ایل ٹی ایل کی ادائیگیوں سے پاکستان کی روایتی برآمدات کے علاوہ دیگر برآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیز کی بہتری کے لیے اقدامات:
تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے گئے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کے ایکس چینج ریٹ کو آئل کمپینوں کے لیے تیل کی قیمتوں میں ضم کیا گیا اور اس طرح انہیں ایکس چینج ریٹ میں ردوبدل کے نقصانات سے بچایا گیا تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول متاثر نہ ہو۔
تیل کی قیمتوں میں بین الاقوامی اثرات کو مدنظررکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا گیا کہ تیل کی قیمتوں کا تعین ماہانہ کی بجائے ہر 15 روزمیں ہوگا۔
سال 2020میں تیل کے بحران اور اس کی قلت سے عوام کی مشکلات کے بارے میں انکوائری کمیشن قائم کی گیا۔
تیل اور گیس کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور اس شعبہ کے دیگر متعلقین سے مشاورت کی گئی۔
سال 2021 میں ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کا استعمال 19.5 ملین ٹن تک جاپہنچا ہے اور 14 فیصد اضافہ ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کےلیے بھرپور ریلیف دیا۔ پٹرول او ر ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر کی گئی۔ حکومت نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پی ڈی ایل کو بھی زیرو کیا۔ اس طرح پٹرولیم مصنو عات پر سیلز ٹیکس کی مد میں فی لیٹر23 روپے او ر پی ڈی ایل کی مد میں فی لیٹر 30 روپے کا ریلیف دیا گیا۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ اور سوئیڈن جیسے ترقی یافتہ ملک بھی اپنے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کے بین الاقوامی ریٹ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلر ز کے مارجن میں اضافہ:
تحریک انصاف کی حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے لیے مارجن میں اضافہ کردیا اور ان کا سالہاسال سے التوا کا شکار مطالبہ منظور کرلیا گیا۔ دسمبر 2021 میں پٹرول پرڈیلرزمارجن 3.91 سے بڑھا کر 4.90 روپے فی لٹر اور ڈیزل پرڈیلرزمارجن 3.30 سے بڑھا کر 4.13 روپے فی لٹر کیا گیا۔ اسی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مارجن میں 71 پیسے اضافہ کیا گیا اور اسے 2.97 روپے سے بڑھا کر 3.68 روپے فی لٹر کیا گیا۔
آئل ریفائنری کی بہتری کے لیے اقدامات:
تحریک انصاف کی حکومت نے نئی آئل ریفائنری پالیسی کی تیاری کی منظوری دی۔ اس طرح یہ تجویز کیا گیا کہ امپورٹ پیریٹی کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جائے اور پٹرول اور ڈیزل کی کی امپورٹ پر آیندہ 5 سا ل کے لیے 10 فی صد ڈیوٹی عائد کی جائے ۔
تحریک انصاف کی حکومت نے آئل ریفائنری کے لیے سرمائے اور مالی حالت مستحکم بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ ایک لاکھ بیرل یومیہ کی صلاحیت رکھنے والی نئی ریفائنری قائم کرنے پر 20 سال کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی اور اگر پہلے سے موجود کوئی بھی ریفائنری اپنی اپ گریڈیشن کرتی ہے اور پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہے تو اس کے لیے 10 سال تک انکم ٹیکس کی چھوٹ کی سہولت دی گئی۔ اسی طرح آئل ریفائنری کے لیے قیام کے لیے اس کی مشینری ، آلات اور دیگر سامان پر بھی ڈیوٹی اور ٹیکسز میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا۔
اس طرح اس ریفائنری پالیسی میں مقامی آئل ریفائنری کو بھی اپ گریڈیشن پر مراعات دی گئیں اور غیر ملکی نئی ریفائنری کے لیے بھی پرکشش مواقع مہیا کیے گئے۔









