وزیراعظم کا دھمکی آمیز خط صحافیوں کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی خاور گھمن ، ارشد شریف ، معیز پیرزادہ ، شہزاد اقبال ، فریحہ ادریس اور مہر بخاری کے ساتھ دھمکی آمیز خط شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے دھمکی آمیز خط سینئر صحافیوں کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے ، لیکن فیصلہ کرتے ہوئے یہ سوچئے گا کہ آپ کا فیصلہ پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ نہ بن جائے۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ڈرامہ ہورہا یہ ڈرامہ نہیں ہورہا۔

ان کا کہنا ہے کہ جتنا میں کہہ رہا ہے یہ اس سے بڑی سازش ہے ، مراسلہ سینئر صحافیوں سے شیئر کروں گا۔ اپنی اتحادی جماعتوں کے ایک ایک رکن کو بلا کر مراسلہ دکھاؤں گا۔ یہ پاکستان کے خلاف باہر سے سازش تیار کی گئی ہے۔ یہ ایک سچ ہے ، پاکستان کو ٹیلی فون کالز سے کنٹرول کرنے والوں نے سازش تیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کانگو میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، حادثے میں 6 افسران اور 1 جوان شہید

اپوزیشن سے ڈیل میں مریم نواز رکاوٹ بن گئیں، پرویز الہٰی

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی خاور گھمن ، ارشد شریف ، معیز پیرزادہ ، شہزاد اقبال ، فریحہ ادریس اور مہر بخاری کے ساتھ دھمکی آمیز خط شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیٹر کی حقیقت کیا ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران ایک خط لہرا تھا اور کہا تھا کہ میری حکومت کو گرانے کےلیے باہر سے سازش تیار کی جارہی ہے ، باہر بیٹھے ہوئے لوگ میری حکومت کے خلاف عالمی سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔

دھمکی آمیز خط اور نواز شریف کا کردار

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے 5 مارچ کو سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی جس کے ٹھیک دو دن بعد وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط موصول ہو گیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق گذشتہ دنوں این ڈی ایس کے سابق سربراہ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد سے بھی ملاقات کی تھی۔

گذشتہ روز دھمکی آمیز خط کے کچھ مندرجات میڈیا سے شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزراء اسد عمر اور فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے مراسلے میں میاں نواز شریف کا کردار کھل کر سامنے  آگیا ہے ۔ مراسلے میں واضح دھمکی دی گئی ہے اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو یہ آپ کے اچھا نہیں ہوگا۔ دھمکی آمیز خط کے ملنے کے بعد تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز خط ایک حقیقت ہے میں خود اس خط کو دیکھ چکا ہوں، وزیراعظم تیار ہیں وہ سوچ رہے ہیں، کس کے ساتھ خط شیئر کریں، اگر کسی کو شک ہے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط دکھا سکتے ہیں، مراسلہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کیلئے وزیراعظم تیار ہیں۔

ذرائع نے نیوز360 کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو موصول ہونے والا دھمکی آمیز خط دراصل ریاستی اداروں کی متعدد اہم شخصیات کو بھیجا گیا تھا۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق عمران خان اور دیگر ریاستی کو ملنے والے خطوط کی تحریر ایک ہی ہے۔

وزیراعظم نے گذشتہ روز حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے لیے ایک آزادانہ خارجہ پالیسی اپنانے کے حامی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز ملنے والے خط کے محرکات میں وزیراعظم عمران خان کا وہ انٹرویو بھی شامل ہے جو انہوں نے “axios” کے نامہ نگار کو دیا تھا ۔ جس میں وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا "ایبسلولیٹی ناٹ” پاکستان کسی صورت اپنے اڈے اور سرزمین امریکا کو افغانستان میں ٹی ٹی پی ، داعش اور القاعدہ کے خلاف استعمال کے لیے نہیں دے گا۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 اپریل کو ہونے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم سیاسی لڑائی کے لیے اپنے اراکین قومی اسمبلی حاصل کرنے کے لیے جوڑ توڑ لگی ہوئی ہیں۔

متعلقہ تحاریر