افغان معاملے پر علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس

چین نے اجلاس کی میزبانی کی، افغانستان، ترکمنستان، تاجکستان، پاکستان، ازبکستان اور روس کے وزرائے خارجہ کی شرکت۔

چین دو بین الاقوامی اجلاسوں کی میزبانی کر رہا ہے جن کا مقصد افغانستان میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے حوالے سے حکمت عملی بنانا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چین میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا یہ تیسرا اجلاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ برادر ملک کے وزیر خارجہ وینگ ای کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یہ اجلاس منعقد کروایا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طویل امن اور استحکام کے فروغ کیلیے ایک مستقل علاقائی پالیسی کا ہونا ضروری ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین افغانستان اور پاکستان کی ایک سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کی اہمیت سے واقف ہیں اور مشترکہ مقاصد کے حصول کیلیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی بھی اجلاس میں موجود تھے، دیگر شرکا میں روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔

انڈونیشیا اور قطر کے سفارتکاروں نے اس علاقائی اجلاس میں اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین، امریکا، روس اور پاکستان یہ تمام وہ ممالک ہیں جن کا افغان معاملے پر اثر و رسوخ ہے۔

چین، امریکا اور روس کے نمائندگان خصوصی برائے افغانستان کی علیحدہ سے بھی ایک ملاقات ہوگی۔

یہ اہم علاقائی اجلاس ایسے وقت میں جاری ہے کہ جب روس یوکرین پر لشکر کشی میں مصروف ہے اور افغانستان کی مالی امداد بند ہونے اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے انسانی المیہ بدترین ہوتا جا رہا ہے۔

آج عالمی بینک نے افغانستان میں 600 ملین ڈالر کے چار منصوبوں کو لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کی وجہ سے معطل کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے دو کروڑ 30 لاکھ شہری بھوک میں مبتلا ہے اور 95 فیصد افغانوں کو پیٹ بھر کر کھانے کیلیے غذا میسر نہیں۔

ایک کروڑ افغان بچوں کو زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار کسی ملک کیلیے جس رقم کا تقاضہ کیا گیا تھا اس کا صرف 13 فیصد پورا ہوا ہے۔

برطانیہ نے جان بچانے والی غذاؤں اور دیگر امداد کیلیے افغانستان کو 374 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چین نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

پچھلے ہفتے چینی وزیر خارجہ نے افغان دارالحکومت کا دورہ کیا، اس دوران کان کنی کے شعبے میں کام شروع کرنے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں افغانستان کے ممکنہ کردار پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ تحاریر