حماد اظہر نے مفتاح اسماعیل کو اقتصادیات کا سبق پڑھا دیا

مفتاح اسماعیل نے حماد اظہر سے پوچھا کہ کیا حکومت پی ایس او کے گردشی قرضے کی ذمہ دار نہیں؟ حماد اظہر نے بتایا کہ لیگی حکومت ذمہ دار ہے۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ کرتے ہوئے دی نیوز اخبار میں شائع ہونے والی خبر شیئر کی ہے جس کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل کا گردشی قرضہ 658 ارب روپے ہوچکا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے لکھا کہ پی ایس او کو 500 ارب روپے کے واجبات وصول کرنے ہیں۔

سوئی نادرن گیس پائپ لائن نے 278 ارب روپے کا بل ادا نہیں کیا، پاور جنریشن کمپنیز کے ذمہ پی ایس او کے 140 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بہت خطرناک ہیں جس سے سنگین بدانتظامی جھلک رہی ہے۔

انہوں نے وزیر توانائی حماد اظہر کو ٹویٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے؟

یا یہ بھی ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کے بارے میں آپ بات نہیں کرسکتے؟

جواب میں حماد اظہر نے ٹویٹ لکھی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایل این جی کو پیٹرولیم مصنوعات میں شمار کر کے بہت بڑی غلطی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو پی ٹی آئی حکومت نے WACOG قانون کے ذریعے تبدیل کیا۔

حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اقدام سے سوئی نادرن گیس پائپ لائن کیلیے وصولی میں مسائل پیدا ہوئے اور وہ پی ایس او کے واجبات ادا نہیں کر پایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے مسلم لیگ (ن) حکومت نے مہنگے داموں ایندھن درآمد کر کے توانائی کے شعبے کو گردشی قرضوں میں دھکیل دیا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں یہ سچ نہیں، پہلی بار سن رہا ہوں کہ 278 ارب روپے ایک ‘معمولی وصولی’ ہے۔

انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ لیکن شکر ہے کہ آپ اسے عالمی سازش کہنے کے بجائے ہم پر اس مسئلے کی ذمہ داری کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے مفتاح اسماعیل کو بتایا کہ اقتصادیات کی زبان میں Short Collection کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ‘اصل قیمت’ وصول نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی آسانی کیلیے بتاتا ہوں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے طے کردہ معاہدوں کی وجہ سے سوئی گیس کمپنیز ایل این جی فروخت کرنے کی پابند تھیں لیکن دوسری طرف وہ اس کی پوری رقم وصول نہیں کرسکیں کیونکہ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے ہی قانون سازی کر رکھی تھی۔

متعلقہ تحاریر