حماد اظہر نے مفتاح اسماعیل کو اقتصادیات کا سبق پڑھا دیا
مفتاح اسماعیل نے حماد اظہر سے پوچھا کہ کیا حکومت پی ایس او کے گردشی قرضے کی ذمہ دار نہیں؟ حماد اظہر نے بتایا کہ لیگی حکومت ذمہ دار ہے۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ کرتے ہوئے دی نیوز اخبار میں شائع ہونے والی خبر شیئر کی ہے جس کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل کا گردشی قرضہ 658 ارب روپے ہوچکا ہے۔
PMLN blunder of classifying LNG as petroleum product (now reversed by PTI through WACOG) created a short collection issue for SNGPL that stands as receivables in books of PSO.
Just like expensive/excess/imported fuel power projects of PMLN drove circular debt in power sector. https://t.co/3kWyI5VE6W— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) March 29, 2022
مفتاح اسماعیل نے لکھا کہ پی ایس او کو 500 ارب روپے کے واجبات وصول کرنے ہیں۔
سوئی نادرن گیس پائپ لائن نے 278 ارب روپے کا بل ادا نہیں کیا، پاور جنریشن کمپنیز کے ذمہ پی ایس او کے 140 ارب روپے واجب الادا ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بہت خطرناک ہیں جس سے سنگین بدانتظامی جھلک رہی ہے۔
انہوں نے وزیر توانائی حماد اظہر کو ٹویٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے؟
یا یہ بھی ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کے بارے میں آپ بات نہیں کرسکتے؟
جواب میں حماد اظہر نے ٹویٹ لکھی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایل این جی کو پیٹرولیم مصنوعات میں شمار کر کے بہت بڑی غلطی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو پی ٹی آئی حکومت نے WACOG قانون کے ذریعے تبدیل کیا۔
حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اقدام سے سوئی نادرن گیس پائپ لائن کیلیے وصولی میں مسائل پیدا ہوئے اور وہ پی ایس او کے واجبات ادا نہیں کر پایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے مسلم لیگ (ن) حکومت نے مہنگے داموں ایندھن درآمد کر کے توانائی کے شعبے کو گردشی قرضوں میں دھکیل دیا۔
Short collection in Finance terms means non-recovery of full price.
In layman language (for you) it means that Sui companies were bound to sell LNG due to contracts signed by PMLN but on other hand they could not recover its full cost also due to legislation passed by PMLN. https://t.co/fmMtFzxCnh— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) March 29, 2022
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں یہ سچ نہیں، پہلی بار سن رہا ہوں کہ 278 ارب روپے ایک ‘معمولی وصولی’ ہے۔
انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ لیکن شکر ہے کہ آپ اسے عالمی سازش کہنے کے بجائے ہم پر اس مسئلے کی ذمہ داری کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر حماد اظہر نے مفتاح اسماعیل کو بتایا کہ اقتصادیات کی زبان میں Short Collection کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ‘اصل قیمت’ وصول نہ ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی آسانی کیلیے بتاتا ہوں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے طے کردہ معاہدوں کی وجہ سے سوئی گیس کمپنیز ایل این جی فروخت کرنے کی پابند تھیں لیکن دوسری طرف وہ اس کی پوری رقم وصول نہیں کرسکیں کیونکہ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے ہی قانون سازی کر رکھی تھی۔









