پاکستان میں ڈپلومیٹک کیبلز کی تاریخ اور ہماری مقتدر قوتوں کا کردار
تازہ ترین ڈپلومیٹک کیبل ایک پاکستانی سفیر کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو موصول ہوئی ہے جس میں دھمکی آمیز اور غیرپارلیمانی زبان استعمال کی گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ تاریخ کو جھٹلایا تو جاسکتا ہے مگر تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے ، پاکستان میں ڈپلومیٹک کیبلز کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا پاکستان پرانا ہے۔ وکی لیکس ، پاناما لیکس اور اب پینڈورا لیکس کی اسٹڈی سے پتا چلتا ہے کہ ان تمام لیکس میں پاکستانیوں کے سیاسی اور عسکری قیادت ملوث ہے۔ یہ الگ میٹر ہے کہ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے اپنے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ، ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک ایک ڈپلومیٹک کیبل امریکا روانہ کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا کی طرف سے پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے خلاف ڈرون حملوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، غیرملکی مراسلہ پر جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ
اپوزیشن کا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ، اجلاس اتوار تک ملتوی
این ڈبلیو پیٹرسن نے اسی طرح مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ڈپلومیٹک کیبل امریکی محکمہ خارجہ کو روانہ کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ امریکا ہمیں بھی موقع اپنی خدمت کا۔
اسی طرح کی ایک ڈپلومیٹک کیبل ایک پاکستانی سفیر کے ذریعے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو موصول ہوئی ہے جس کے مندرجات کے مطابق دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوتی ہے تو پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔

دھمکی آمیز مراسلے میں غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی ہے۔ غیرملکی مراسلہ کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ غیرملکی آفیشل کی جانب سے مراسلے میں غیرپارلیمانی زبان بھی استعمال کی گئی ہے۔
2010 میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے ہزاروں امریکی خفیہ دستاویزات اپنے ویب سائٹ پر جاری کیں۔
جولین اسانج نے 60 سے 70 سال پرانی خفیہ دستاویزات کو جاری کیا تو دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا ۔
جولین اسانج نے عراق جنگ کے دوران کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھاگیا تھا کہ بارہ عراقی باشندوں کو امریکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضا سے زمین پر گرا کر ہلاک کیا گیا تھا ، ہلاک ہونے والوں میں دو صحافی بھی شامل تھے۔
وکی لیکس کے بانی نے امریکا افغان جنگ سے متعلق 77 ہزار خفیہ دستایزات جاری کیں۔ اکتوبر 2010 میں جولین اسانج نے عراق جنگ سے متعلق 4 لاکھ خفیہ دستاویزات کو اپنے ویب سائٹ پر جاری کیا تو دنیا بھر میں کھلبلی مچ گئی۔
نواز شریف سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے جولین اسانج نے لکھا ہے کہ افغان طالبان حکومت میاں نواز شریف کو اسلامی بنیاد پرست کے طور پر دیکھتی تھی ، جبکہ امریکی سفیر رچرڈ باؤچر کو خدشات تھے کہ نواز شریف پاکستان میں اسلام کی حمایتی اور مشرف اور امریکا مخالف تحریک چلا سکتے ہیں۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے انکشاف کیا کہ امریکا نہیں چاہتا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری بحال ہوں ۔ ڈپلومیٹک کیبل کے مطابق 2008 میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے نواز شریف سے ملاقات کی اور افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے روکا۔
وکی لیکس کی سفارتی کیبلز کے اہم انکشافات
وکی لیکس کی طرف سے کئے گئے اہم انکشافات کا ایک ملک بہ ملک جائزہ۔
واشنگٹن: امریکی حکومت نے کہا کہ وہ وکی لیکس کی جانب سے 250,000 سے زیادہ امریکی سفارتی کیبلز جاری کرنے کے بعد سیکیورٹی سخت کرے گی جس میں غیر ملکی رہنماؤں کے واضح خیالات اور سیکیورٹی خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔
کیبلز میں اہم انکشافات یہ ہیں:
ایران
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے بارہا امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرے تاکہ اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کیا جا سکے۔
ڈپلومیٹک کیبل کے مطابق سعودیہ نے واشنگٹن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ "سانپ کا سر کاٹ دے” اور یہ وقت بھی اہم ہے۔

بحرین کے بادشاہ نے امریکی سفارت کاروں سے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی طریقے سے روکا جانا چاہیے، اور ابوظہبی کے ولی عہد نے ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے جنگ کرنے کی منطق پیش کی۔
امریکی سفارتی کیبلز کے مطابق، تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب نے چین کے ساتھ توانائی کے تعلقات کو فروغ دینے کی پیشکش کی ہے اگر بیجنگ ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرتا ہے۔
فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کے اعلیٰ سفارتی مشیر نے 2009 میں ایک سینئر امریکی سفارت کار کو بتایا تھا کہ ایران ایک "فاشسٹ” ریاست ہے اور اب مزید اقدامات کا فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔
ایران نے شمالی کوریا سے ایسے جدید ترین میزائل حاصل کر لیے ہیں جو مغربی یورپ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس پر امریکہ کو تشویش ہے۔ ایران ان راکٹوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کے لیے ’بلڈنگ بلاکس‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
پاناما لیکس کا مختصر احوال

پاناما دستاویزات اپریل 2016 میں جاری کی گئیں۔ 11.5 ملین خفیہ ڈپلومیٹک کیبل قانونی مشاورتی کمپنی موساک فونسکا نے جاری کیں۔ اس کمپنی کے دنیا بھر میں تقریباً 40 کے قریب دفاتر موجود ہیں۔ پاناما لیکس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے بڑے بڑے سیاستدانوں اور عسکری حکام کے نام آئے۔
International Consortium of Investigative Journalists کی ویب سائٹ پر جاری ہونی والی پاناما لیکس میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو ، سابق وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک ، وزیراعلیٰ پنجاب کے رشتے دار ثمینہ درانی ، سینیٹر عثمان سیف اللہ سمیت درجنوں سیاست دانوں کے نام شامل ہیں۔
پینڈورا پیپر کا مختصر احوال

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس نے 2 اکتوبر 2021 کو پیڈورا پیپرز (ڈپلومیٹک کیبلز) کو جاری کیا ۔ پیڈورا پیپرز 1 کروڑ 19 لاکھ ڈپلومیٹک کیبلز پر مشتمل ہیں۔
پینڈورا پیپرز 11.9 ملین ڈپلومیٹک کیبلز پر مشتمل ہے جبکہ پاناما ڈپلومیٹک کیبلز 11.5 ملین خفیہ دستاویزات پر مشتمل ہیں۔
پینڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام آئے ہیں۔









