پاکستان کسی کیمپ پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا، آرمی چیف
پاکستان کسی دوسرے ملک سے تعلقات متاثر کیے بغیر امریکا سے تعلقات کو توسیع دینا چاہتا ہے، امریکا پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کا سیکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی کیمپ پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا، پاکستان کے چین ،امریکا ، جاپان اور یورپی ممالک سے دوستانہ تعلقات ہیں۔پاکستان کسی دوسرے ملک سے تعلقات متاثر کیے بغیر امریکا سے تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے.
اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے کروز میزائل کے پاکستان میں گرنے پرتشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے
سیاستدانوں کو آپس میں طے کرنے دیں، فوج مداخلت نہیں کرے گی، آرمی چیف
شہباز شریف کا آرمی چیف کی مدت ملازمت کے سوال پر گول مول جواب
آرمی چیف نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ایک سال سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا لیکن 9 مارچ کوبھارت کی طرف سے سپر سانک کروز میزائل کا پاکستان میں گرنا گہری تشویش کا باعث ہے، ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ایٹمی ملک کا سپر سانک میزائل کسی دوسرے ملک میں گرا ہے،پاکستان نے بھارت کے میزائل گرنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، بھارت دنیا اور پاکستان کو بتائے کہ اس کے ہتھیار محفوظ ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، پاکستان چاہتا ہے بھارت کے ساتھ آبی تنازع بھی مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہو۔ مقاصد کے حصول کیلیے ملک کے اندر اور باہر امن ضروری ہے۔
روس یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ یوکرین کیخلاف روسی جارحیت افسوسناک ہے،یوکرین کا معاملہ بہت بڑا سانحہ ہے جسے فوری طور پر روکاجانا چاہیے،یوکرین کے ہزاروں لوگ ہلاک،لاکھوں پناہ گزین بن گئے،آدھا ملک تباہ ہوچکا،پاکستان چاہتا ہے یوکرین جارحیت فوری بند اور جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔روس کے جائز سیکیورٹی مسائل کے باوجود چھوٹے ملک کیخلاف جارحیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان نے یوکرین کیلیے انسانی بنیاد پر امداد بھیجی اور اسے جاری رکھیں گے۔ یوکرین تنازع کا پھیلاؤ کسی کیلیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔پاکستان چاہتا ہے کہ یوکرین مسئلے کے حل کیلیے تمام فریقین مذاکرات کریں۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ کئی وجوہات کے باعث پاک روس تعلقات کافی عرصے سرد رہے، حالیہ عرصے میں روس کے ساتھ تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے،پاکستان اور چین کے قریبی اسٹرٹیجک تعلقات ہیں۔
افغانستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اہم اقتصادی خطے میں واقع ہے، خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی میں شامل ہے جبکہ افغانستان پر پابندیاں وہاں کی مشکلات میں اضافےکا باعث ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی برادری سے مل کر افغانساتان کی مدد کی لیکن افغان عوام کی مدد کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے، پابندیاں لگانے کے بجائے افغانوں کے مثبت رویے کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔









