کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے شہباز شریف اگلے وزیراعظم پاکستان ہوں گے، اکنامسٹ
ہفت روزہ برطانوی جریدے نے لکھا ہے کہ شہباز شریف ، بدنام زمانہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی ہیں جو وزیر اعظم عمران خان کی جگہ لینے جارہے ہیں۔
برطانیہ کے ایک ہفت روزہ میگزین دی اکنامسٹ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بدنام زمانہ وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف، جو خود بھی کرپشن الزامات کی زد میں ہیں ، وہ وزیر اعظم عمران خان کی جگہ لینے کے لیے پسندیدہ ترین وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔
دی اکنامسٹ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ”عمران خان کا بطور پروفیشنل کرکٹر کیرئیر بھرپور شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تھا تاہم انہیں اپنے سیاسی کیریئر میں شکست کے امکان دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی صحافی وزیراعظم عمران خان کی صلاحیتوں کے معترف
خطے میں ایک اور سرد جنگ نہیں ہونے دینگے، چینی وزیر خارجہ کا بروقت بیان
اکنامسٹ کے مطابق "عمران خان 2018 سے بطور وزیراعظم پاکستان کے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ییں جبکہ 3 اپریل کو انہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا سامنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کو بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس سازش کے پیچھے مغرب (امریکا) کا ہاتھ ہے۔ عمران خان نے کچھ عرصہ قبل روس کا دورہ کیا تھا جب روس نے یوکرین پر جنگ مسلط کی تھی۔
اکنامسٹ نے لکھا ہے کہ "اگر حقیقت پسندی دے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ عمران خان پاکستان کے جرنیلوں کی اہم حمایت کھو چکے ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوامی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے موقع سے فائدہ اٹھایا ہے، اور اب وہ عمران خان اور ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔”
اکنامسٹ نے مزید لکھا ہے کہ "عمران خان کی جگہ لینے کے لیے شہباز شریف پسندیدہ ترین شخصیات ہیں جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد میں شہباز شریف جیت جاتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان پاکستان کے سیاسی خاندانوں کی سیاست کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن وہ (شہباز شریف) کون ہے؟
شہباز شریف کون ہیں؟
شہباز شریف اگست 2018 سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور اپنے بھائی نواز شریف کی نااہل کے بعد حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر ہیں۔
شہباز شریف تین بار پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، جس کی وجہ سے وہ صوبے کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیراعلیٰ ہیں۔
شہباز شریف 1988 میں ایم پی اے اور 1990 میں ایم این اے منتخب ہوئے، وہ 1997 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔
انہوں نے ان کے خاندان نے 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد سعودی عرب میں خود ساختہ جلاوطنی کے کئی سال گزارے تھے۔ وہ 2007 میں پاکستان واپس آئے اور دوسری مدت کے لیے دوبارہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ماضی کے حکمرانوں کی اکثریت کو اپنے کرپٹ پس منظر کے حوالے سے تنازعات کے شکار رہے ہیں۔ کرکٹ کا پس منظر رکھنے والے عمران خان 2018 میں پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم وہ سیاست سے سیاسی خاندانوں کے کردار کو ختم میں ناکام رہے۔
یاد رہے کہ اکنامسٹ کی طرح ماضی میں بھی غیر ملکی میڈیا پاکستانی سیاست دانوں کی کرپشن کے حوالے لکھتا رہا ہے۔
غیرملکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کرپشن کے پیسوں سے ایون فیلڈ میں فلیٹس خریدے تھے۔
غیرملکی میڈیا نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ سابق وزیراعظم مرحرم بے نظیر بھٹو نے کرپشن کی کمائی سے سرے محل خریدہ تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے قصے میں غیرملکی اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں اور اب پاکستان کے طاقتور ترین عہدے کے لیے نامزد شہباز شریف کی کرپشن اسکینڈلز کے حوالے سے متعدد مضامین غیرملکی اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔









