وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو عہدے سے ہٹا دیا
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر چوہدری محمد سرور کے وزیراعظم عمران خان سے اختلاف ہو گئے تھے۔
ملک میں ہر لمحے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال میں تازہ ترین تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ وفاقی حکومت نے سیاسی طور پر حیران کن موڑ لیتے ہوئے چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ "وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے، نئے گورنر پنجاب کا اعلان بعد میں کیا جائیگا۔”
یہ بھی پڑھیے
ترین گروپ پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی حمایت کرے گا، نعمان لنگڑیال
امریکا کی طرف سے میرا نام لیکر دھمکی دی گئی، وزیراعظم عمران خان
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "آئین کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قائم مقام گورنر ہوں گے۔”
نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو علیم خان گروپ سے بیک ڈور رابطوں پر ہٹایا گیا۔
ذرائع نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا تھا کہ چوہدری سرور علیم گروپ کی حمایت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دو روز سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو اسلام آباد طلب کیا تھا ، اور ہدایت کی تھی کہ وہ چوہدری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد واپسی پر چوہدری محمد سرور نے گورنر ہاؤس میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر چوہدری محمد سرور کے وزیراعظم عمران خان سے اختلاف ہو گئے تھے۔ جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری محمد سرور ، مسلم لیگ ن کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حمایت کے لیے بیک ڈور رابطے کررہے تھے۔
خیال رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے 5 ستمبر 2018 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، ماضی میں چوہدری محمد سرور 2013 میں بھی پنجاب کے گورنر بنے تھے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف سے شدید اختلافات کی بنا پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے 29 جنوری 2015 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔









