انڈیا کے 72 چینلز پر صف ماتم ہے جبکہ اپوزیشن اپنی موت آپ مر گئی ہے، شیخ رشید

سابق وزیر داخلہ کا کہنا ہے تین تجویزیں تھی جن میں بڑوں کی رائے بھی شامل تھی کہ نمبر ایک عدم اعتماد ہو جائے ، نمبر دو وزیراعظم استعفیٰ دے دیں اور نمبر تین ملک میں نئے الیکشن ہو جائے۔

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے جن لوگوں نے اچکنیں سلوار رکھی تھی میں کہا تھا ہو نیکریں بن جائیں گی ۔ ڈپٹی اسپیکر کی آج کی رولنگ سے اپوزیشن اپنی موت آپ مر گئی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے اٹھارہ اٹھارہ اور بیس بیس کروڑ روپیہ لیا وہ ثواب کمائیں اور پیسے پناہ گاہوں میں دیں۔ پیسہ لینے والے اس قابل نہیں رہ گئے کہ اپنے حلقوں میں جاسکیں۔ 22 کروڑ لوگوں میں سے 22 لوگ اگر 20 ، 20 کروڑ روپے میں بک جائیں تو اس ملک کی جمہوریت کا چہرہ ہی مسخ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب اسمبلی کا اہم اجلاس 6 اپریل تک ملتوی

وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو عہدے سے ہٹا دیا

شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ تین تجویزیں تھیں جس میں بڑوں کی بھی رائے شامل تھی ، پرائم منسٹر نے خود کہہ دیا ، نمبر ایک عدم اعتماد ہو جائے ، نمبر دو وزیراعظم استعفیٰ دے دیں اور نمبر تین ملک میں نئے الیکشن ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا میں نئے الیکشن کے لیے دو مہینوں سے رو رہا ہوں، میں تو ایمرجنسی کی بات کرتا تھا ، مگر وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ اس کو مسترد کردے گی، وزیراعظم کا خیال تھا کہ گورنر راج بھی ختم ہو جائے گا۔ پھر پی ٹی آئی کی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ خاص طور پر ہندوستان میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ اس فیصلے کے بعد انڈیا کے 72 چینلز ماتم کررہے ہیں۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ان کے ساتھی آجائیں گے انکے کاروباری ساتھی آجائیں گے۔ سب سے زیادہ مایوسی کی لہر ہندوستان میں آئی ہے اور سب سے زیادہ خوشی پاکستان میں محسوس کی جارہی ہے۔

شیخ رشید احمد نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ کے پی کے اور پنجاب اسمبلی کو بھی تحلیل کردیا جائے۔ میری خواہش تھی کہ حج کے بعد الیکشن ہو جائیں۔ روز لوگ طعنے دیتے تھے کہ سلیکٹڈ ہے کہاں ہیں وہ لوگ اب آجائیں اب کہاں فرار ہو رہے ہیں۔ فضل الرحمان اور نواز شریف کی خواہش تھی جلد الیکشن ، مگر آصف زرداری کو الیکشن پر اعتراض تھا۔

متعلقہ تحاریر