رمضان کے شروع ہوتے ہی مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں
ادارہ شماریات کا کہنا ہے ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق شہروں کی نسبت دیہات میں مہنگائی کا زیادہ زور ہے۔ مارچ میں مہنگائی 12.7 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔
رمضان شروع ہوتے ہی مہنگائی عروج پر، ٹماٹر 240, خربوزہ 140، سیب 320, کھجور 300 روپے کلو تک جا پہنچی، اسلام آباد کے عوام مہنگائی سے پریشان، پاکستان شماریات بیورو نے ملک بھر میں بھی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 12.7 فیصد بڑھنے کے اعداد و شمار جاری کردیئے۔
ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت میں مہنگائی کو مزید پَر لگ گئے، دو دن میں 80 روپے فروخت ہونے والا ٹماٹر 240 روپے کلو تک جا پہنچا۔ 40 روپے کلو والا آلو 60 اور 50 روپے فروخت ہونے والی پیاز 80 روپے کلو تک جا پہنچی۔ ماہ صیام کی آمد پر اسلام آباد میں 70 روپے فروخت ہونے والے خربوزے کے دام 140 روپے فی کلو، 220 روپے فروخت ہونے والی کھجور کا ریٹ 300 روپے کلو تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 180 روپے والا سیب اب 320 روپے تک جاپہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ٹیسلا پبلک کمپنی کے طور پر بری طرح ناکام، فوربز میگزین
ڈالر 184 روپے سے تجاوز کرکے تاریخ کی بلند ترین سطح پر
ادھر پاکستان شماریات بیورو نے ماہانہ اور سالانہ مہنگائی کے بڑھنے کی اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں۔ جن کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 12.7 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔
ادارہ شماریات نے ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق شہروں کی نسبت دیہات میں مہنگائی کا زیادہ زور ہے۔ مارچ میں مہنگائی 12.7 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ماہانہ بنیادوں پرشہری علاقوں مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر شہروں میں چکن 33.63 فیصد اور پھل 15.17 فیصد مہنگے ہوئے ہیں۔ ایک ماہ میں خوردنی گھی 8.32 فیصد پیاز 7.01 فیصد خوردنی تیل 5.05 فیصد مہنگے ہوئے۔ ایک سال میں شہروں میں ٹماٹر 148.65 فیصد خوردنی گھی 49.56 فیصد مہنگا ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق اس عرصے میں خوردنی گھی 48.05 فیصد دال مسور 38.32 فیصد مہنگی ہوئی۔ ایک سال میں پھل 32 فیصد ، سبزیاں 34.92 فیصد چکن 19.59 فیصد مہنگا ہوا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق شہروں میں ایک سال میں دال مونگ 27.11 فیصد انڈے 20.32 فیصد سستے ہوئے۔ دیہات میں ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی ایک فیصد بڑھی ہے۔ دیہات میں ماہانہ بنیادوں پر چکن 33.34 فیصد پھل 16.67 فیصد مہنگے ہوئے۔ دیہات میں خوردنی تیل 12.35 فیصد خوردنی گھی 10.30 فیصد مہنگا ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق دیہات میں سالانہ بنیادوں پر دیہات میں ٹماٹر 158.82 فیصد، خوردنی تیل 63.47 فیصد خودرنی گھی 56.43 فیصد مہنگا ہوا۔
ایک سال میں دیہات میں پھل 37.80فیصد۔ دال مسور37.46 فیصد دال چنا 3.39فیصد مہنگی ہوئی ۔ پاکستان شماریات بیورو کے مطابق ایک سال میں دیہات میں آٹا 16.22فیصد اور چکن 15.09فیصد مہنگا ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں دال مونگ 27.05 فیصد اور انڈے 15.05فیصد سستے ہوئے اور اس عرصے میں چینی 9.62 فیصد اور آلو 9 فیصد سستے بھی ہوئے۔









