کشمیر میں صرف ہندو پنڈتوں کا قتل نہیں ہوا، سابق را چیف

بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہا ہے کہ کشمیر فائلز میں آدھا سچ بتایا گیا، نیشنل کانفرنس کے مسلم کارکن بھی عسکریت پسندوں کا نشانہ بنے تھے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف اے ایس دلت نے کہا ہے کہ متنازع فلم ‘دی کشمیر فائلز’ میں فلمسازوں کی طرف سے ایک مخصوص بیانیے کو ترویج دی گئی۔

اے ایس دلت نے بالکل وہی بات کی جو کہ بھارتی سیاستدانوں اور ماہرین کا ایک گروہ کہہ رہا ہے۔

اس گروہ کے مطابق ‘کشمیر فائلز’ نامی فلم میں صرف آدھا سچ دکھایا گیا ہے۔

سابق را چیف نے ہندوستان ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو مجاہدین نے عسکریت پسندی کے آغاز میں نشانہ بنایا تھا لیکن صرف پنڈت ہی مجاہدین کا نشانہ نہیں تھے۔

دلت نے کہا کہ کشمیر میں فسادات کی شروعات پنڈتوں کے قتل سے ہوئی تھیں لیکن فاروق عبداللہ کی زیر قیادت جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکنوں اور عہدیداروں کو عسکریت پسندوں نے سب سے پہلے نشانہ بنایا تھا۔

دوسری طرف سابق بالی ووڈ اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے ٹائمز آف انڈیا کیلیے اپنے لکھے گئے کالم میں کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ کشمیر فائلز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نئے فلمی عنوانات کا ایک انبار لگ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ بڑے شہروں کے ناموں پر پہلے ہی فلمیں بن چکی ہیں اس لیے اب بےچارے فلمساز ‘اندھیری فائلز، خار ڈنڈا فائلز اور حتیٰ کے جنوبی ممبئی فائلز’ کے نام پر فلمیں رجسٹر کروا رہے ہیں۔

ٹوئنکل نے کشمیر فائلز کا مزید مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی والدہ کے ساتھ ایک فلم بنانے کا آئیڈیا شیئر کیا ہے۔

اس کا نام ‘ناخن فائلز’ ہوگا اور اس میں ناخن تراشنے کے ایک تباہ کن واقعے کا ذکر کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر