پارک ویو سٹی اسکینڈل، علیم خان نے کرپشن چھپانے کیلیے چینل خریدا

اینکرپرسن شفا یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی اے کے 579 منظور شدہ پلاٹ پر علیم خان نے مزید 100 پلاٹ فروخت کرکے اربوں بنائے۔

خوبرو اینکرپرسن شفا یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے پنجاب کی سیاسی شخصیت علیم خان کے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ خیز اسکینڈل شروع ہوتا ہے پارک ویو سٹی اسلام آباد سے جہاں 579 پلاٹ فروخت کے لیے منظور کیے گئے تھے۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی درخواست پر اسے منسوخ کر دیا تھا۔

بعد ازاں علیم خان نے اسی منصوبے میں 100 نئے پلاٹ نکال کر انہیں فروخت کیا اور اربوں روپے کما لیے۔

شفا یوسفزئی نے ٹویٹ میں گوگل کا ایک نقشہ شیئر کیا جس میں کچھ علاقہ ہائی لائٹ ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ نشان زدہ جگہ وہ 1500 کینال اراضی ہے جس پر تمام قوانین کی خلاف ورزی کر کے تعمیرات کی گئیں۔

پارک ویو نے کمرشل علاقے بھی نکالے اور انہیں نجی بلڈرز کو فروخت کر کے اربوں روپے بنائے۔

اینکرپرسن شفا یوسفزئی نے سی ڈی اے کے دو عہدیداران کی طرف سے علیم خان کو جاری کیے گئے حکم نامے کی نقول بھی شیئر کیں۔

اس حکمنامے کے مطابق پارک ویو کو کہا گیا کہ وہ تمام غیرقانوننی تعمیرات فوری طور پر روک دے۔

شفا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ذرائع جو کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کام کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ علیم خان نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے سی ڈی اے پر دباؤ ڈلوانے کا کہا۔

ذرائع کے مطابق علیم خان نے وزیراعظم سے کہا کہ سی ڈی اے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی سے روکگا جائے۔

جب وزیراعظم عمران خان نے علیم خان کو انکار کر دیا تو انہوں نے خود کو بچانے کے لیے اربوں روپے خرچ کر کے ایک بااثر ٹی وی چینل خریدا۔

متعلقہ تحاریر