صحت کارڈ پر علاج سے انکار، بیمار بیٹے کے باپ نے عدالت کا دوازہ کھٹکھٹا دیا
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری کی ہاتھ کی لکھی ہوئی درخواست کو پٹیشن میں تبدیل کرتے وفاقی سیکرٹری صحت کو نوٹس جاری کردیا۔
صحت کارڈ پر بیٹے کےعلاج سے انکار پر شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے فریاد کردی، چیف جسٹس نے ہاتھ سے لکھی گئی درخواست پٹیشن میں تبدیل کردی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے نام ایک شہری کی جانب سے درخواست تحریر کی گئی جس میں فریاد کی گئی کہ ان کا بیٹا جو ایف ایس سی کا طالب علم ہے شدید علالت کے سبب بستر پر آگیا ہے، اس بیماری کو صرف انجیکشن ہی روک سکتے ہیں جو بہت مہنگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پارک ویو سٹی اسکینڈل، علیم خان نے کرپشن چھپانے کیلیے چینل خریدا
درخواست میں شہری نے کہا کہ جتنا ان کے بس تھا انجیکشن لگوا لئے اب پمز سے ہیلتھ کارڈ پر انجکشن نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف یا زرداری نہیں غریب پاکستانی ہوں۔
شہری کی ہاتھ سے لکھی درخواست میں کہا گیا کہ عدالت ہی ان کی امید کی آخری کرن ہے۔ عدالت علاج کے حوالے سے حکم کرے۔
شہری کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں کہ وہ بیٹے کے ہمراہ زندگی کا خاتمہ کرلے۔
شہری کا کہنا تھاکہ وہ دو برس سے در بدر پھر رہا ہے۔ شہری نے استدعا کی کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی انتظامیہ کو حکم دیا جائے کہ صحت کارڈ پر ان کے جواں سال صاحبزادے کا علاج کیا جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے اسے پٹیشن میں تبدیل کردیا ، اور وفاقی سیکرٹری صحت کو نوٹس جاری کر کے 13 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرائیں۔









