سپریم کورٹ کا پنجاب اسمبلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ لے جانے کا حکم
قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے، پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے،پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ لے جانے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے، پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے،پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں،
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے آج ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب روسٹرم پر آگئے۔ چیف جسٹس نے ریمار کس دیے کہ ہم ان پروسیڈنگ میں پنجاب اسمبلی کو ٹچ نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہوٹل کا وزیراعلیٰ بننا مبارک ہو، مونس الہٰی کا حمزہ شہباز پر طنز
پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین علامتی اجلاس کیلیے ہوٹل پہنچ گئے
مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چودہ کروڑ کے صوبے کے منتخب ارکان اسمبلی کا معاملہ ہے، کل ٹی وی پر یہ بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے باہر خاردار تاریں لگائی گئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے موقف اپنایا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے،حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے۔مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں،عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے،کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹادیا۔









