روس نے افغانستان کے پہلے سفارت کار کو باقاعدہ تسلیم کرلیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے افغانستان کے سفیر کو تسلیم کیا جانا ایک احسن قدم ہے ، دیگر دنیا کو عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

روس کی حکومت نے طالبان کی زیر قیادت افغانستان کے پہلے سفارت کار جمال گروال کو باقاعدہ سفیر تسلیم کر لیا ہے۔
ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریہ زخروا کے مطابق یہ اقدام روس اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مکمل بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔
واضح رہے کہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے 31 مارچ کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ماسکو نے طالبان کے سفارت کار کو فروری میں تسلیم کیا تھا، اور وہ تب سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
امریکا کس طرح دیگر ممالک میں مداخلت کرتا ہے؟ ویڈیو وائرل
تاریخ میں پہلی بار نیویار ک کے ٹائمز اسکوائر پر تراویح کی ادائیگی
سرگئی لاوروف کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا "ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ فعال طور پر تعاون کرنا چاہیے، ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، جن کا مقصد اقوام متحدہ اور اس کے تمام شرکاء کی جانب سے اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔”
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر تونسی میں منعقدہ روس ، چین ، پاکستان، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران کیا۔
واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 12 اگست کو غیرملکی افواج کے انخلاف کے بعد افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ طالبان نے بین الاقوامی افواج کو دو دہائیوں کی لڑائی کے بعد افغانستان سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔
دنیا کے بیشتر ممالک طالبان کی زیرقیادت حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے، بیشتر یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند انسانی حقوق کے احترام کے اپنے وعدوں پر پورا نہیں اترتے۔
یاد رہے کہ 17 مارچ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کے ساتھ سرکاری تعلقات قائم کرنے کے لیے ووٹ دیا۔
بین الاقوامی حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے افغانستان کے سفیر کو تسلیم کیا جانا ایک احسن قدم ہے ، دیگر دنیا کو عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ روس کی پیروی کرتے ہوئے افغان حکومت کے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔









