نوازشریف اور زرداری اپنی حکومتیں بچانے کیلیے غیر آئینی اقدام کرتے رہے
آصف زرداری نے اپنی ذات سے متعلق لطیفوں پابندی لگائی، نوازشریف نے 1997 میں حکومت کو مشکلات سے نکالنے کیلیے مذہب کارڈ استعمال کیا اور خود کو امیرالمومنین بنانے کی کوشش کی

اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان پر آئین شکنی اور آمرانہ اقدام اور مذہب کارڈ استعمال کرنے کا الزام لگارہی ہیں مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ پرنظر ڈالی جائے تو اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی اپنی حکومتوں میں غیر آئینی اقدام کرتے رہے۔
وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد صدر مملکت عارف علوی کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا جس پر صدر نے فوری عملدرآمد کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ کا پنجاب اسمبلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ لے جانے کا حکم
سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا نہیں حزب اختلاف اس پر شور مچا رہی ہے
متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے اقدام آمرانہ اور آئین شکنی کے مترادف قرار دیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے اقدام پر ازخود نوٹس لینے کے بعد معاملہ زیرسماعت ہے اور امکان ہے کہ آج اس حوالے سے کوئی فیصلہ آجائے گا ۔
جب آصف زرداری نے خود پر بنے لطیفوں پر پابندی لگائی
ماضی پر نظر ڈالی جائے توسابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور حکومت میں اپنی ذات سے متعلق لطیفوں پر پابندی لگا دی تھی۔ 2009 میں شائع ہونے والی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق،آصف زرداری پر الزام تھا کہ حس مزاح کے فقدان کے باعث آصف زرداری نے اپنی ذات سے متعلق لطیفوں پر پابندی لگادی تھی۔
سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایف آئی اے سے کہا گیا ہے کہ وہ نئے سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت ملک کی سیاسی قیادت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر نشر کیے جانے والے لطائف کا سراغ لگائے۔حکومت نے ٹیکسٹ میسج، ای میل یا بلاگ کے ذریعے آصف زرداری کے بارے میں لطیفے بھیجنے والے پاکستانیوں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں گرفتار کر کے 14 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ اس اقدام سے سویلین قیادت کے خلاف ای میلز اور ٹیکسٹ میسجزمیں من گھڑت کہانیاں لکھنے والوں کو سزا دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کوڈریکونین اور آمرانہ قرار دیا تھا ۔وزیرداخلہ رحمٰن ملک کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب حکومت ایوان صدر کے سرکاری ای میل پر بھیجے جانے والے لطیفوں کی وجہ سے ناراض تھی۔
زرداری حکومت کو بجلی بدترین بحران ، مہنگائی اور بدعنوانی کے سابقہ الزامات سے جان چھڑانے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا سامنا تھا۔ناقدین آصف زرداری پر تنقید کے لیے انہیں ڈاکو اور چیف چور کے القابات سے نوازتے تھے۔
نوازشریف نے خود کو امیرالمومنین بنانے کیلیے آئین سے کھلواڑ کی کوشش کی
دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کی بات کی جائے تو انہو ں نے 1997 میں قومی اسمبلی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد خود کو امیر المومنین کا لقب دینے کیلیے آئین سے کھلواڑ کرکے 15 ویں ترمیم لانے کا فیصلہ کیا۔
28اگست 1997 کو وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد نوازشریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اب ہمیں گھٹنوں کے بل اللہ کے آگے جھک جانا چاہیے۔لوگوں کا خیال تھا کہ نوازشریف یہ سب اظہار تشکر کے طور پر کہہ رہے ہیں لہٰذا کسی کی توجہ نوازشریف کے حقیقی عزائم کی جانب نہیں گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے شریعت یا اسلام کا معاشرتی نظام جس کے مرکزی اصول قرآن اور سنت ہیں،ملک کا سپریم قانون ہوگا۔
قومی اسمبلی میں جہاں انہوں نے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا، وہیں انہوں نے کچھ شاعرانہ انداز میں اعلان کیا کہ ’’ایٹمی تجربات نے چاغی کے پہاڑوں کا رنگ بدل دیا اور شریعت بل معاشرے کا رنگ بدل دے گا‘‘۔
1997 میں امریکا نے افغانستان اور سوڈان پر میزائل حملے کیے تو مذہبی جماعتیں سڑکوں پر آگئیں اور ہڑتالوں اور مظاہروں کے نتیجے میں حکومت پر دباؤ بڑھ گیا۔ ایسے میں وزیراعظم نوازشریف اور اس وقت کے آرمی چیف جہانگیر کرامت کے بیچ نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔وزیراعظم نوازشریف کا دعویٰ تھا کہ فوج نے انہیں افغانستان پر امریکی حملوں سے پیشگی آگاہ نہیں کیا جبکہ جہانگیر کرامت کا دعویٰ تھاکہ امریکا نے افغانستان پرمیزائل حملے سے قبل انہیں آگاہ کیا تھا اور انہوں نے حکومت کوامریکی اطلاع سے آگاہ کردیا تھا۔ جہانگیر کرامت کی وضاحت کے بعد حکومت کی سبکی مزید بڑھ گئی۔
دوسری جانب دیوالیہ ہونے کے قریب معیشت اور فرقہ وارانہ فساد بالخصوص سندھ کی صورتحال نے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔حکومتی معاونین کا خیال تھا کہ نوازشریف حکومت افغانستان اور سوڈان پر امریکی حملوں کے بعد ڈوب رہی تھی، نوازشریف طالبان اور امریکا دونوں کو مطمئن کرنے کی کوششوں کے درمیان پھنس گئے تھے۔
جب نوازشریف نے حکومت کو مشکلات سے نکالنے کیلیے مذہب کارڈ استعمال کیا
ایسے میں مصیبت زدہ نوازشریف کو یہ مشورہ دیا کہ وہ مذہب کا وہی کارڈ استعمال کریں جس کا اعلان انہوں نے 28 اگست کو قومی اسمبلی میں کیا تھا ۔ نوازشریف کے اس وقت کے ایک معاون نے دعویٰ کیاتھا کہ ان کے والد میاں محمد شریف اور صدر رفیق تارڑ نے انہیں اس بات پر قائل کیا کہ یہی واحد راستہ ہے۔
اس اقدام کا مقصد جزوی طور پر اسلام پسندوں کی حمایت حاصل کرنا تھا جن کا اثرو رسوخ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پر امریکی میزائل حملوں کے بعد بڑھ رہا تھا۔
دوسری جانب نوازشریف سعودی عرب جیسے اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کی امید رکھتے ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ اسلام پر ان کا سختی سے کاربند ہونا انہیں امریکا کے ساتھ سودے بازی کی طاقت بڑھانے میں مدد کرسکتا ہے اور سعودی عرب، پاکستان، افغانستان اور چند دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کا اسلامی امتزاج خطے میں ایک مضبوط اسٹریٹجک قوت ثابت ہو سکتا ہے۔جسے امریکہ اور چین نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور وہ پاکستان کو معاشی بدحالی سے توقع سے پہلے باہر نکال سکتے ہیں۔
تاہم نوازشریف کی یہ کوشش کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی۔ دائیں بازو کی جماعت اسلامی سے لے کر بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تک تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس بل کو ایک چال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کیونکہ ان کا ماننا تھا یہ ملک پر آمریت مسلط کرنے کا منصوبہ ہے۔









