اپوزیشن اور حکومت کی ترجیحات بدلنے سے سیاسی بحران گہرا ہونے لگا
قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے اور صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی ترجیحات یکسر تبدیل ہو گئی ہیں۔

ملک میں جاری سیاسی کشمکش کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ابھی کہنا مشکل ہے ، تاہم اس ساری لڑائی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی سرکردہ لیڈرشپ اور حکومت کی ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں۔ وہ جو لوگ الیکشن چاہتے اب وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن نہ اور جو الیکشن نہیں چاہتے تھے اب انہوں نے انتخابات کے لیے دروازہ کھول دیا ہے۔
27 مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک خفیہ لہرا کر ملک کے طول و عرض میں بھونچال کی کیفیت پیدا کردی۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ کا پنجاب اسمبلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ لے جانے کا حکم
ہوٹل کا وزیراعلیٰ بننا مبارک ہو، مونس الہٰی کا حمزہ شہباز پر طنز
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل، حزب اختلاف کی جماعتیں ، وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور خیبر پختون خوا (کے پی کے) میں حکومتوں کو گرا کر نئے انتخابات چاہتی تھیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور اپوزیشن نے اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کے بعد ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے اور صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی ترجیحات یکسر تبدیل ہو گئی ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ شروع کردیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اصل حالت میں بحال کیا جائے تاہم وہ کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کراسکیں۔ اور اپنے مرضی کا وزیراعظم لا سکیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف حکومت اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے ۔ تحریک عدم اعتماد سے قبل وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت اپنی حکومت کو تحلیل کرنے کا سوچ بھی نہیں رہے تھے بلکہ حکومت کے خلاف ہونے والے کوششوں کو غیرملکی سازش قرار دے رہے تھے۔
صوبہ پنجاب میں سیاسی ہلچل مزید شدت اختیار کر گئی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ حیرت انگیز علامتی اجلاس میں حمزہ شہباز کو نیا وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا۔
اسی طرح پی ٹی آئی حکومت عثمان بزدار کی برطرفی کے بعد پرویز الٰہی کو پنجاب کا نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنے کے لیے اجلاس طلب کرنے پر آمادہ تھی لیکن اب تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی تھی جبکہ دوست محمد مزاری نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے خود اجلاس طلب کیا تھا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) صوبہ پنجاب میں جلد سے جلد وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہی ہے اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک انصاف کے عدم اعتماد کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید برآں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے عدلیہ پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ ملک کے بگڑتے ہوئے سیاسی اور معاشی حالات کو الگ رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ جلد از جلد سنائے۔
سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کے مبینہ غیر آئینی اقدام کے خلاف دائر کیس کی باقاعدہ سماعت کر رہا ہے جنہوں نے 3 اپریل کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو مسترد کر دیا تھا۔
اس ساری سیاسی صورتحال کے تناظر میں سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر خوبصورت الفاظ میں تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” کیاوقت آگیاکہ کوئی وزیراعظم نہیں مگر وزیراعظم ہے،کوئی حکومت نہیں مگرحکومت ہےاپوزیشن چاہتی تھی عمران خان وزیراعظم نہ رہیں مگر اب اپوزیشن چاہتی ہےعمران خان وزیراعظم ہوں تاکہ وہ عمران خان کو ہٹاسکے،اپوزیشن الیکشن چاہتی تھی اب نہیں چاہتی،حکومت الیکشن نہیں چاہتی تھی مگر اب الیکشن چاہے۔”
کیاوقت آگیاکہ کوئی وزیراعظم نہیں مگر وزیراعظم ہے،کوئی حکومت نہیں مگرحکومت ہےاپوزیشن چاہتی تھی عمران خان وزیراعظم نہ رہیں مگر اب اپوزیشن چاہتی ہےعمران خان وزیراعظم ہوں تاکہ وہ عمران خان کو ہٹاسکے،اپوزیشن الیکشن چاہتی تھی اب نہیں چاہتی،حکومت الیکشن نہیں چاہتی تھی مگر اب الیکشن چاہے
— Irshad Bhatti (@IrshadBhatti336) April 6, 2022









