عمران خان نے امریکا کا مہرہ بننے سے انکار کرکے حکومت خطرے میں ڈالی

مڈل ایسٹ آئی نامی جریدے میں پیٹر اوسبورن نے کالم لکھ کر عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دورِِ حکومت کا پچھلی حکومتوں سے موازنہ پیش کیا ہے۔

تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلیے وزیراعظم عمران خان کی طرف قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بعد دنیا حیرت میں مبتلا ہے، مڈل ایسٹ آئی میں پیٹر اوسبورن نے کالم لکھا ہے جس میں انہوں نے عمران خان کو حکومت سے ہٹائے جانے کی ممکنہ وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

پیٹر اوسبورن کہتے ہیں کہ عمران خان کوئی معمولی وزیراعظم نہیں، انہوں نے بےمثال حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف افراد کے مفادات پر کاری ضرب ڈالی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے ملک سے کرپشن کے خاتمے کی کوشش کی، ایک نئی خودمختار خارجہ پالیسی بنائی۔

ان کو یہ بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے امریکا کا مہرہ بننے سے انکار کر کے اپنی حکمرانی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

اوسبورن کے مطابق سب سے بڑا کام عمران خان نے یہ کیا کہ ایک بدبودار، کرپٹ اور سڑے ہوئے دو جماعتی نظام کو ختم کیا جس نے ملک کی جمہوری سیاست پر دہائیوں سے قبضہ کر رکھا تھا۔

اس کی وجہ سے عمران خان کے بہت سے دشمن بن گئے، کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی۔۔۔ اور اب یہ دشمن ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

اوسبورن نے کہا کہ بطور سیاستدان عمران خان کی بہت سی صلاحیتیں ہیں لیکن پاکستانی سیاست کے تناظر میں ایک کمزوری ہے، وہ یہ کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں۔

نواز شریف جانتے ہیں کہ عمران خان کو معاشی بحران وراثت میں ملا جب انہوں نے چار سال قبل حکومت سنبھالی۔

اوسبون کہتے ہیں کہ یہ بحران مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے بدترین بدانتظامی کے بعد پیدا ہوا۔

ایک ذہین شخص ہونے کے ناطے نواز شریف کو یہ ادراک ہے کہ ان کی پارٹی نے ملک پر قرضے چرھائے اور معاشی نااہلی میں دھکیل دیا جس سے عمران خان دفتر سنبھالنے کے بعد سے نبرد آزما ہیں۔

عمران خان کو خالی خزانہ، بےکار ٹیکس نظام اور صرف دو مہینے کے زرمبادلہ ذخائر ملے۔

ملک کے بیرونی قرضوں سے نمٹنے کیلیے عمران خان کی حکومت کو بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتیں بڑھانا پڑیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف غصے کے جذبات پیدا ہونا فطری تھا۔

لیکن عمران خان نے کورونا کی عالمی وبا میں باقی دنیا کے مقابلے میں بہت بہترین کارکردگی دکھائی۔

مخالفین کی جانب سے عمران خان کو بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار قرار دینا بہت ناگوار ہے کیونکہ کورونا کے بعد یہ مسئلہ عالمی معیشت کا ہے، صرف پاکستان کا نہیں۔

متعلقہ تحاریر