اکتوبر سے قبل انتخابات کاانعقاد ممکن نہیں ، الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق صدر مملکت کے خط کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندیاں الیکشن کے انعقاد کیلئے ضروری ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر مملکت کے 90 روز میں الیکشن سے متعلق تاریخ دینے کے جواب میں کہا ہے کہ عام انتخابات چھ ماہ بعد اکتوبر میں ممکن ہو سکیں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر الیکشن کرانے کی تاریخ دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے امریکا کا مہرہ بننے سے انکار کرکے حکومت خطرے میں ڈالی

اپنے صوبے کیلئے پورے پاکستان کی قیادت کا انگوٹھا لگوا لیا، خالد مقبول صدیقی

خط میں مزید کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 48 (5)اے اور آرٹیکل 224(2) میں درج ہے کہ صدر مملکت عام انتخابات کی تاریخ مقرر کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق صدر مملکت کے خط کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندیاں الیکشن کے انعقاد کیلئے ضروری ہیں۔

12 خطوط لکھنے کے باوجود مردم شماری کی حتمی اشاعت بروقت نہ کی گئی۔

کمیشن نے کہا کہ حتمی طور پر صاف شفاف الیکشن کیلئے 4 ماہ درکار ہیں اور الیکشن کا انعقاد اکتوبر میں ممکن ہو گا۔

واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو قومی اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے گذشتہ روز خط لکھا تھا۔

5 اپریل کو ایوان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے خط میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے 90 روز کے اندر الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا پابند ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے لکھے گئے خط میں الیکشن کمیشن کو کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 5 اے اور آرٹیکل 224 کی شق 2 کے تحت صدر عام انتخابات کی تاریخ مقرر کریں گے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے 3اپریل کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیرملکی سازش قرار دیا تھا  اور اسی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد مسترد کئے جانےکی رولنگ دی تھی۔جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کوارسال کی تھی اور صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔

متعلقہ تحاریر